بھکار خانہ

اپنی معاشرت کے جراثیم انسان میں جب تک رہتے ہیں جب تک وہ مر نہیں جاتا ۔۔۔۔ اسی طرح کچھ چیزیں فطرتی طور پر انسان میں اس کی عادات و خصلت کی وجہ سے ایسے سرایت کر جاتی ہیں جس طرح شیطان انسان کے خون میں سرایت کر جاتا ہے ۔

نظام سقہ تو آپ کو یاد ہی ہو گا ۔۔۔ ماشکی تھا ۔۔۔ چمڑے کے سکے بنا ڈالے ۔۔۔ مغلوں کی حکومت بھی ہزاروں سال نہیں صدیوں پہلے کی بات ہے ۔۔۔عیاش تھے ، خوبصورتی اور اندام نہانی کے رسیا تھے ۔۔۔عوام مرتی رہی ۔۔اور وہ ڈھولک اور سارنگیوں پر ڈانس کرواتے رہے ۔۔۔ محل و باغات بنا ڈالے ۔۔ایسے شاندار محلات بنوائے جہاں ان کی خوبصورت داشتائیں چین کی زندگی بسر کرتی رہیں اور عوام ۔۔۔ جھونپڑیوں میں بے بسی کی زندگی گزارتے چلے گئے

بھکاری بھی ایک پیشہ ہے جس میں ۔۔۔ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی مگر رنک چوکھا آوے ۔۔۔۔ مستند شنید ہے کہ آج کل کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں عوام کو کوئی سہولت دینے یا کوئی مکینیکل یا ٹیکنالوجی کے کارخانے لگانے کے بجائے کی بجائے ہمارے وزیراعظم نے عوام کی بے روزگاری دور کرنے کے لئے بھکار خانہ کھول دیا ہے ۔۔۔
عوام کو اور کیا چاہئے ۔۔۔ روٹی ۔۔۔۔ وہ مل گئی
باقی رہ گیا کپڑا اور مکان ۔۔۔ زندہ رہنے کی لئے اس کی ضرورت ہی نہیں ۔۔۔ ننگے رہ کر بھی جیا جا سکتا ہے اور ٹھکانا تو کہیں بھی بنایا جا سکتا ہے ۔۔۔ تھوڑی زمین ہے پاکستان میں کہیں بھی قبضہ کر کے بنی گالہ محل ، سرے محل یا جاتی عمرہ بنا لو ۔۔۔۔



اپنا تبصرہ بھیجیں