درس نظامی میں گالیوں کا خفیہ مضمون

وقت اتنی تیزی سے گزر رہا ہے لگتا یوں ہے جیسا کہ وقت کو پر لگ گئے ہوں ۔۔۔ پر بھی ایسے ویسے نہیں ۔۔۔ چمگادڑ کے ۔۔۔۔پچھلے دس سالوں سے ہم وقت کے بارے ہی گلہ کرتے چلے آئے ہیں ۔۔۔۔ مگر اب کہ کچھ ایسا ہے کہ ایک ہی وقت میں حادثات و واقعات کچھ اتنی تیزی سے رونما ہو رہے ہیں کہ محسوس یوں ہوتا ہے ۔۔۔۔ وقت بھی جیسے تھک گیا ہو ۔۔۔۔

ابھی دھماکہ ہوتا ہے ۔۔۔ درجنوں لاشیں گرتی ہیں ساتھ ہی کسی کو چُل اٹھتی ہے وہ اپنا نیا پنگا شروع کردیتا ہے ۔۔۔۔اس کی تازہ مثال حال ہی میں لاہور گلشن اقبال کے خوں ریز دھماکے اور مولویوں کے اضافہ شدہ مذہب ستائیسویں دن کو چالیسواں منا کر سامنے آئی ہے ۔۔۔۔ ویسے پہلے قل تیسرے دن ہوا کرتے تھے اب آج کل قل بھی دوسرے دن کر کے کھابے شابے کھا کر مردے کوثواب پہنچا دیا جاتا ہے ۔۔۔۔ چاہے بیچارا مردہ ساری عمر لوگوں کو تکلیف دیتا رہا ہو، لوگوں کا مال ہڑپ کرتا رہا ہو ۔۔۔ اس کو ثواب ضرور پہنچایا جاتا ہے ۔یہ ثواب اصل میں اس کو نہیں اپنے پیٹ کو پہنچایا جاتا ہے ۔۔۔

ویسے ایک بات مجھے بڑا دکھ دے رہی ہے کہ میں نے مذہب کو زیادہ کیوں نہیں پڑھا ۔۔۔۔ اگر یہ بات مجھے پتہ ہوتی کہ درس نظامی میں ان محترم حضرات نے غلیظ گالیوں کا بھی ایک خفیہ مضمون رکھا ہوا ہے تو میں یہ تعلیم ضرور حاصل کرتا ۔۔۔۔ صحافت اور دوائیوں کی خجل خواری سے تو بہتر ہوتا کہ اس سے مجھے کسی مزار کا ٹھیکہ مل جاتا ۔۔۔۔ اگر اور زیادہ محنت کرتا تو میں بھی گالیوں کے مقابلے میں بہتر پوزیشن لے کر عالم ، مفتی یا شیخ بن سکتا تھا ۔ ۔۔۔۔ بحرحال اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اللہ نے مجھے صحیح جگہ رکھا ۔

عالمات اور علماء کرام بننے کے لئے درس نظامی کا چھ سالہ کورس لڑکیوں کے لئے اور آٹھ سالہ لڑکوں کے لئے ضروری ہوتا ہے ۔۔۔۔۔اور اسی طرح مفتی بننے کے لئے یعنی فقہ و فتاوی کی ریسرچ کے لئے دوسالہ مزید کورس کروایا جاتا ہے ۔اس کے بعد وہ مفتی بن جاتا ہے ۔بعد آزاں شیخ الحدیث بننے کے لئے احادیث مبارکہ کی درس و تدریس اور حافظہ حدیث کا مسنتد علم ہونا ضروری ہے ۔۔۔ اور اسی طرح شیخ التفسیر کہلانے کے لئے قرآن کریم کی مختلف تفاسیر کی درس و تدریس کا مستند علم ہونا ضروری ہوتا ہے ۔

اور ان لوگوں میں اپنے تئیں عالم ، مفتی ، شیخ الحدیث اور شیخ القرآن بھی موجود تھے ۔۔۔۔ اب جہاں ایسے لوگ موجود ہوں وہاں گالی دینا تو درکنار اس کا تصور بھی محال ہوتا ہے۔۔۔۔۔اب کیا وجہ ہے کہ ایسا ہوا ۔۔۔۔۔ یا تو یہ لوگ عالم نہیں تھے یا عالم کے مرتبے کے لائق نہیں ۔۔۔۔۔۔

کمال کی تو بات یہ ہے کہ اتنے بڑے بڑے عالم ، مفتی ، شیوخ نے بھی آج تک عوام کو یہ ہوا نہیں لگنے دی کہ ان کے مذہب کے درس میں غلیظ گالیوں کا بھی ایک مضمون موجود ہے ۔۔۔۔۔اب جبکہ ہوا لگ چکی تو میں یہ سوچتا ہوں کہ کیوں نا میں بھی ایک گالیوں کا مقابلہ کروا ہی دوں جس میں ملک کے نامی گرامی عالم ، مفتی اور شیوخ حصہ لیں ۔۔۔۔۔ اوًل آنے والے معزز اصحاب کو میں گورنمنٹ اور ممتاز قادری کے گھر والوں سے منت ترلہ کرکے اس کے مزار کا ٹھیکہ تو لے ہی دوں گا۔

About

10 thoughts on “درس نظامی میں گالیوں کا خفیہ مضمون

    1. سر جی اس کو بھی ایک مضمون کے طور پڑھایا جائے تو کیا حرج ہے ۔۔۔۔ یہ بھی تو پڑھا رہے ہیں ۔۔۔ اپنے شاگردوں کو ۔۔۔۔ عوام کو ۔۔۔ آنے والی نسلوں کو ۔۔۔۔
      اگر ہم اسے پڑھانا شروع کر دیں گے تو ذرا جدیدیت آ جائے گی

  1. سیانے کہتے اگر کسی نئی زبان کو سیکھنا ہو تو سب سے پہلے اس زبان کی گالیاں سیکھو تو اس اصول کو اپناتے ہوئے ھم نے جب آج سے دس سال پہلے عربی سیکھنے کا آغار کچھ اسی طرح کیا تھا لیکن آج آپکا بلاگ پڑھ کر گالیوں کے کچھ اور فوائد پر سے بھی پردھا اٹھا آپ کی تحریر کا کمال یہ ہے کہ آپ بہت ھلکے پھلکے انداز میں بہت گہری بات کرجاتے ہیں بہت خوب

  2. پانچ سال درس نظامی ، پانچ سال دورہ حدیث ، پانچ سال دورہ تفسیر ۔۔۔یعنی پندرہ سال مذہبی تعلیم کے بعد ایک عالم بنتا ہے ۔۔۔۔ اس کے بعد تقریباً پانچ سے دس سالہ تجربے اور درس و تدریس کے بعد مفتی کے عہدے کا اہل ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ اور شیوخ کا عہدہ حاصل کرنے کے لئے ہزاروں شاگرد ، سیکنڑوں عالم و مفتی صاحبان کا استاد ہونا پڑتا ہے ۔

    یہ آپ کی معلومات غلط اس میں پانچ پانچ سال نہیں ہوتےدرس نظامی آٹھ سال کا ہوتا ہے جس میں حدیث اور تفسیر شامل ہوتی ہے

  3. نجیب بھائی- اسلام آباد کے پوش علاقوں میں بیسیوں پلاٹ، رینج روورز اور پراڈو سواریاں، بڑے بڑے وزراء اور رئیس زادے دروازے پر کتے کی طرح دُم ہلاتے ہوئے۔ ان فوائد پر اگر آپ غور کرتے تو پتہ چلتا کہ اس لائن میں کتنا فائدہ ہے۔ خیر اب بھی وقت زیادہ نہیں گزرا۔ آپ کچھ کام شروع کیجیئے، پہلی بیعت مین کرونگا آپ کی۔ laugh

  4. پیر تاریکت ، رہبر خنزریت جناب صاحبزادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھونکا پور ، حرام نگر
    اتنا ہی بہت ہے یا کچھ اور شاملوں

  5. میرا خیال ہے کہ گالیاں سیکھنے کو کوئی کورس وغیرہ کی حاجت نہیں، ، ، اور نہ ہی خصوصی طور پر کسی ٹیوٹر کی ضرورت ہے، ، ، گھر سے باہر نکلیں، ، ، اور سیکھتے چلے جائیں، ، ، معاشرہ خود کفیل ہے

    اس بلاگ کی نسبت سے یہ کہوں گا کہ برے لوگوں نے بھی دین کی تعلیم کی سندیں لے رکھی ہیں، ، ، مکرر، ، ، پلیز ، ، ، دین کی تعلیم کی سندیں لے رکھی ہیں، ، ،

  6. اس بلاگ کی نسبت سے آپ کی بات صحیح ہے ۔۔۔ کہ ۔۔
    ۔۔۔۔ ”’ برے لوگوں نے بھی دین کی تعلیم کی سندیں لے رکھی ہیں ۔۔۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *