حقوق نسواں بل پر میرا نقطہ نظر

بڑا شور و غوغا سنتے ہیں حقوق نسواں بل کا ۔۔۔۔جب سے پنجاب حکومت نے حقوق نسواں ایکٹ دوہزار سولہ کو پاس کیا ہے ۔۔۔ ہماری بہت سی این جی اوز میں خوشی کی ایسی لہر دوڑ گئی ہے جیسے انہوں نے کوئی ملک فتح کر لیا ہو ۔۔۔۔۔۔ اچھا ہے ۔۔۔۔ اچھا ہے ۔۔۔۔ خوشی ہونی چاہئے۔۔۔ کمزور کو اس کا حق ملنا چاہئے ۔۔۔۔۔ مگر کمزور کو ۔۔۔۔۔۔ طاقتور کو نہیں ۔۔۔ کیونکہ طاقتور تو حق چھیننا جانتا ہے۔۔۔۔

جب سے یہ بل پاس ہوا ہے اور اس کے ثمرات کا تعلق ہے تو روزانہ کسی مرد کی تھانے میں ٹھکائی ہورہی ہے اور ساتھ ہی پرچہ درج کروانے والی عورت کو طلاق کا کاغز بھی تھمایا جا رہا ہے۔

اس اہم موضوع پر ہمارے محترم بلاگرز جن میں خواتین بھی شامل ہیں ۔۔۔ انہوں اس پر تفصیلا” اور کھل کر لکھا ہے۔۔۔۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کے لکھاریوں ، اخبارات کے کالم نگاروں اور میڈیا کے دانش وروں نے کھل کر اپنے اپنے علم کے لحاظ سے روشنی ڈالی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے تقریبا” ہر مسلک کے علماء کرام نے اس بل پر اپنے اپنے تحفظ کا اظہار بھی کیا ہے جبکہ کچھ مذہبی تنظیمیں اس بل کو لے کر احتجاج کی سیاست شروع کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ہو گا کیا ۔۔۔۔۔ یہ سب جانتے ہیں ۔۔۔۔ اس لئے میں اس پر روشنی ڈالنا نہیں چاہتا۔

قران کریم میں عورت کے بارے میں واضح احکام تقریبا” 132 جگہ پر آئے ہیں جن میں عورت کی حرمت ، عفت ، حفاظت ، برابری ، شرم و حیا ، پردہ ، نکاح ، طلاق ، وصیت ، وراثت اور دیگر اہم امور پر شامل ہیں ۔

ان سب کا تفصیلا” ذکر کرنے سے بات بہت لمبی ہو جائے گی ۔۔۔۔۔ میں صرف مختصرا” آس بل کی مناسبت سے کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔

قران کریم میں اللہ سبہانہ و تعالی نے عورتوں کے بارے میں جو احکامات دئے ہیں یہ بل ان کے سامنے ایک بےکار کاغذ کے ٹکڑے کی مانند ہے ۔ قران کے احکامات کی روشنی میں اگر کوئی اعلی عقلمند ، دانش ور ، اسکالر ، عالم یا مفتی اس بے کار قانون کو اہمیت دیتا ہے تو وہ غلطی پر ہے ۔۔۔۔

اصل میں علماء سو ، درندہ صفت مولویوں نے عام مرد و زن کو قرآن کریم سے ایسا دور رکھا اور ڈرایا ہوا ہے ۔۔۔کہ جیسے اس کا سمجھنا ان کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔حالانکہ قرآن کریم ہر کسی سمجھنے میں آسان اور راہ ہدایت ہے ۔۔۔۔

جدید اسکالرز ، وومن این جی اوز سب سے زیادہ جو عورتوں کے حقوق کا واویلا کرتی ہیں اس میں سر فہرست عورتوں کی پروٹیکشن یعنی عورت سے برا سلوک ، معاشرے میں عورت کو ہراساں کیا جانا ، عورتوں سے مار پیٹ ، عورتوں کا مردوں کے ساتھ کام کرنا یا ان جیسا کام کرنا ، عورت کو برابری کے حقوق دینا ، اپنی مرضی سے زندگی گزارنا وغیرہ شامل ہیں۔۔۔اور بھی بہت سی چیزیں ہیں ۔

اللہ تعالی سوورہ نساء آیت نمبر چونتیس میں فرماتا ہے ۔۔۔

ترجمہ ۔۔۔ اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو ان کو سمجھاؤ ،اور اپنے بستروں سے ان کو علیحدہ کردو اور ان کو مارو ۔۔۔۔۔

اب یہاں اللہ پاک نے نافرمان عورتوں کو سدھارنے کے لئےتین چیزیں بتائیں ہیں ۔۔۔ ایک ۔۔۔۔ پہلے ان کو سمجھاؤ ۔۔۔۔ دو ۔۔۔۔اگر وہ نہ سمجھیں تو ان سے عارضی طور پر علیحدہ سونا شروع کر دو یعنی ناراضگی کا اظہار کرو ۔۔۔۔۔۔ تین ۔۔۔۔ان کا مارو ۔۔۔۔۔

اچھا اب اس آیت میں اللہ پاک نے جو تیسری چیز بتائی ہے وہ ایک انتہائی حد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب یہاں مارنے کی تشریح کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔ جو کہ سب اپنی اپنی مرضی سے کرتے ہیں ۔۔۔۔۔زیادہ تر علما اس مار کو ہلکی سی مار کہتے ہیں جبکہ تشدد پسند لوگ اور مولوی اس کو ڈنڈے سوٹوں سے مارنا کہتے ہیں۔۔۔

یہاں میں مار کے سلسلے میں ایک حدیث کے مفہوم کے کچھ الفاظ بیان کرنا چاہوں گا۔۔۔۔۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے “” بلی “” کو بھی مارنے سے منع فرمایا ہے ۔۔۔۔ اگر جھڑکنا یا مارنا ہی مقصود ہو تو روئی کے گولے سے مارنے کا حکم دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب سوچنے کی بات یہ ہےکہ ایک جانور کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے مارنے سے ناپسند فرمایا ہے تو کیا عورتوں پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔ ہر گز نہیں ۔۔۔ قران پاک کی اس آیت کے آخری حکم سے مراد ہاتھ اٹھا کر مارنا ہرگز نہیں بلکہ تنبیہ کرنا مراد ہے جو جسم کے کسی حصے پر ہاتھ رکھ کر بھی کی جاسکتی ہے۔

سوچنے کی بات ہے آپ اس ایک مثال سے ہی جان سکتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو کتنی عزت اور تعظیم دی گئی ہے ۔۔۔۔۔ جس کو غلط انداز میں پیش کر کے دین اسلام کو غلط رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔

میں اب آخر میں مختصرا” ان موضوعات کا حوالہ دینا چاہوں گا جن پر اللہ پاک نے قران پاک میں عورتوں کے لئے واضح احکامات بیان کئے ہیں ۔۔۔

نکاح ، طلاق ، رجعت یا تفریق ، ایلاء ، لعان ، یعنی عورتوں پر الزام لگانا ، ظہار ، رضاع ، معاشرت النساء اور معاشرت النساء بالاختصار ، پردہ ، وصیت ، میراث ، حدود ۔ حد زنا ، چال ، آواز ، زینت ، اور دیگر امور۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اللہ سبہانہ و تعالی کے اتنے واضح اور جامع احکامات کے مقابلے میں یہ بے کار قانون عورتوں کا تحفظ کرے گا یا عورتوں میں بگاڑ کا سبب بنے گا

فیصلہ آپ پر ۔۔۔۔۔۔ قرآن پڑھئے ، سمجھئے اور عمل کیجئے۔۔۔۔۔۔۔دعاؤں میں یاد رکھئے گا

About

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *