محبت کیا ہے اور عشق کیا

زندگی کے چون سال گزار دئے ۔۔۔۔۔ سینکڑوں کتابیں چھان ماریں ۔۔۔ بھانت بھانت کے روحانی عالموں سے مل لیا ۔۔۔ سب کی بولیاں سن لیں ۔۔۔ مگر مجھے آج تک محبت میں عشق کی آمیزش نہیں ملی ۔۔۔ کیونکہ میری نگاہ میں محبت کو عشق سے جوڑا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ محبت ایک سچا جزبہ ہے جبکہ عشق ایک دماغی خلل کا نام ہے ۔۔۔۔۔۔ عشق ایک دیوانگی ہے جو انسان کے عقل و شعور کو ختم کرکے اسے پاگل پن میں مبتلا کردیتی ہے ۔

عشق ایک جنون کا نام ہے جو اپنی انتہا پر پہنچتا ہے تو انسان اپنا عقل و شعور کھو بیٹھتا ہے جس کے بعد اسے کسی قسم کے نفع ونقصان کی تمیز نہیں رہتی، بس اپنی خواہش کو پورا کرنے اور معشوق کو حاصل کرنے کا خیال اس پر ہر وقت حاوی رہتا ہے ۔

لوگ عشق کو روحانیت سے جوڑتے ہیں جو کہ بالکل غلط تصور ہے ۔۔۔ عشق جنسی خواہشات کے عمل کا نام ہے ۔۔۔ محبت اور عشق میں یہی فرق ہے کہ محبت ایک لافانی جذبے اور سچائی کا نام ہے جبکہ عشق شہوت سے پُر ایک غرض کا نام ہے ۔۔۔۔

عشق کا معنی اور مفہوم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ یہ اللہ ، رسول ، نبی یا کسی محبت کرنے والے رشتے سے محبت کے اظہار کےلیے استعمال کیا جائے کیونکہ عشق میں محبت ہوتی ہی نہیں ہے عشق میں تو صرف حرص و ہوس ہوتی ہے جو کہ شہوت سے پُر ہوتی ہے۔

آسانی کے طور پر آپ اسے یوں سمجھیں کہ ۔۔۔۔۔ اگر ہم کہیں کہ ہمیں اپنے اہل خانہ سے محبت ہے ۔۔۔ مجھے اپنے والدین سے محبت ہے ۔۔۔ مجھے اپنی بہنوں سے محبت ہے۔۔۔۔ مجھے اپنی بیٹیوں سے محبت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کوئی شخص ایسے کہہ سکتا ہے یا ایسی بات زبان پر لاسکتا ہے کہ میں اپنی والدہ ، بہن یا بیٹی کا عاشق ہوں ؟ کجا لوگ یہ کہتے پھریں کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق ہوں یا عشق الہی میں غرق ہوں ۔۔۔

محبت دیکھنی ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت سے دیکھئے ۔۔۔۔ محبت دیکھنی ہو تو صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھئے ۔۔۔۔

عاشق دیکھنے ہوں تو لیلی مجنوں کو دیکھئے ، شیریں فرہاد کے قصے سنئے ، ہیر رانجھے کی داستان پڑھئے ، سسی پنوں کے محلے کی دیواروں سے سر ٹکرائیے ۔۔۔۔۔۔۔ اگر پھر بھی عشق کی سمجھ نہ آئے رات کی تاریکی میں موبائل کا پیکیج کروائے ہوئے کسی ڈیڑھ پسلی کے نوجوان کا جائزہ لیجئے ۔۔۔۔۔۔ لگ پتہ جائے گا ۔۔۔۔ محبت کیا ہے اور عشق کیا۔۔۔

About

13 thoughts on “محبت کیا ہے اور عشق کیا

  1. ویسے عشق رسول پڑھتے تو رہے ہیں مگر آپ کی دی ہوئی مثالوں سے اس لفظ کو غلط العام میں شمار کروں گا، واقعتاُ ہم نہیں کہہ سکتے کہ میں‌اپنے باپ، بھائی یا کسی بزرگ کا عاشق ہوں‌تو پھر رسول اللہ کا عاشق کیسے کہہ سکتے ہیں،
    ہاں‌عشق کے لفظ کو جنسیت سے جوڑنا آسان اور قابل فہم ہے، خیر سانوں‌کی، ہم تو کھوتے بھی کھاجاتے ہیں‌اور پکڑنے کی خبریں‌آنے پر شہباز شریف کو گالیاں بھی دے سکتے ہیں‌

    1. Ishq arabi lafz hai .jiske mana hair kisi se sachchi mohabbat karna, ,dil se chahna,
      Mibahullughat page no.1085
      Apni gandi soch apni hi paas rakho , mijhe pata hai tum ladeeniyat yaani ghair muqallidiyat se muta-assir ho Allah tumko hidayat de, Ishq ka itna ganda aur sharamnak mana Ghair muqallidown se pahele kisi ne nahee kiya

    1. Ilm seekho yaaro apni zahenii ghilazat ko zahen se,nikalne ki fikr karo naa k logon ko bato ,taqseem karo

  2. عشق کا لفظ قران و حدیث میں مجھے کہیں نہیں ملا۔۔۔ ایک دو حدیث میں ملا تو اس کا مطلب عربی میں کچھ اور تھا۔پورے قران میں صرف محبت کا ذکر آیا ہے۔۔۔۔۔۔ روحانی کتابوں اور عشقیہ و ادب و شاعری کی کتابوں میں عشق کو محبت پر ترجیح دی گئی ہے۔۔۔۔بہت سی دینی و روحانی کتابوں میں پھر عشق کو مختلف کیٹیگری میں بانٹا گیا ہے۔۔ جیسے عشق حقیقی ، عشق مجازی وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بحرحال اس موضوع پر پھر کسی وقت تفصیل سے روشنی ڈالوں گا

  3. تینیوں یاد نا میری آئی ۔۔۔۔کسی سے اب کیا کہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرزا صاحباں بھی لکھ دیتے سپر ہٹ ہو جانا تھا

  4. آپ کی بات سے بالکل بھی اتفاق نہیں ہے ؛ بات یہ ہے کہ لفظ کا مفہوم اہل زبان کے استعمال سے طے ہوتا ہے اور عشق کو ارباب شعر و ادب نے مقدس ہستیوں کے لیے برتا ہے ؛ اقبال ہی کو دیکھ لیجیے کہ کس سلیقے اس لفظ کو اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے ۔ اآپ کا اعتراض بالکل سطحی ہے اور زبان و بیان کے مسلمہ اصولوں سے صرف نظر کا نتیجہ

    1. آپ اپنی جگہ پر صحیح ہیں ۔۔۔۔ اقبال اپنی جگہ پر صحیح تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں نے جو لکھا ہے وہ سو فیصد صحیح ہے ۔۔۔اپنے اپنے علم ، عقل ، فہم کی بات ہے ۔۔۔۔۔
      آپ سمیت ہر انسان حق رکھتا ہے اختلاف کا ۔۔
      بحرحال میں آپ کے یہاں آنے ، پڑحنے اور تبصرہ کرنے کا مشکور ہوں ۔۔۔ کیونکہ تبصروں سے مجھے اپنے اصلاح کے لئے راہنمائی ملتی ہے ۔ جزاک اللہ

      1. عشق و محبت دل کے راگ هیں آپ عقل پہ لاپ رھے ھیں عشق نے ابراھیم کو آگ میں کودوایا اسماعیل کو ذبح کروانےلے گیا بلال کو جلتے کوئلوں پر لیٹایا منصور سے انالحق کا نعرہ لگایا بھلے کو نچایا فرھاد سے پہاڑ کھودوایا ہمارے ذاتی مشاہدے اور تجزیے سے کسي چیز کی حقیقت بدل نہیں جاتی ہم سارا دن دن کو رات کہتے رہیں دن رات نہیں ہوگا کنویں کے مینڈک کی طرح کنویں کو ہی کل کائنات نہ سمجھیں لکھنے کو بہت کچھ لکھ سکتے ھیں پر …..,,,,,

        smile

        1. جو جی چاہے لکھئے محترم ۔۔۔۔ یہاں ہم نے میدان کھلا رکھا ہوا ہے ۔۔۔۔۔ بے شک گالیاں ہی لکھئے ۔۔ہمارا اصول ہے ہم کسی چیز کو ایڈ ٹ یا ڈیلیٹ نہیں کرتے ۔۔۔۔بلکہ بطور سند پڑے رہنے دیتے ہیں

  5. لفظ محبت حب سے نکلا ہے ، جس کا معنی ہے کنواں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی طرح اس کو چاہت بھی کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور چاہ کا مطلب ہی کنواں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حب دل کے کنویں میں اچانک یا درجہ بدرجہ کوئی پھول کھلنے لگے ، کوئی انگڑائی مچلنے لگے ، جب کویئ کلی سر اٹھانے لگے تو روح کی لطیف روشنی پورے وجود کے گرد ہالہ بناے لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کی کیمسٹری اگر اآپ پڑھیں تو اآپ کو معلوم ہوگا کہ محبت میں گرفتار جوڑے کے وجود سے کون سے اینزائم خارج ہوتے ہیں یہ وہی اینزائم ہیں جو پاین کلر کی صورت میں خارج ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اینڈرائن گلینڈز کس طرح محبوب کو ٹرانس میں مبتلا رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ محبت کا پہلا درجہ ہے
    محبت جب اس درجہ کو طے کرلیتی ہے تو پھر اگلا درجہ ہوتا ہے عشق کا
    عشق محبت ہی کی سوپرلیٹو فارم ہے ، انتہائی شکل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عشق میں محبوب اپنے وجود کو بھولنا شروع ہوجاتا ہے اور محبوب کے وجود میں کھونا شروع ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ خاص الخاص لوگوں کا راستہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دل کا راستہ ہے یہاں دماغ کا، عقل کا کوئی کام نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عشق میں جب اپنی نفی ہوجاتی ہے تو پھر محبوب ہی باقی رہ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور جب انسان کی اپنی نفی ہوجاتی ہے تو پھر خدا کا نور اس دل میں رچھ بس جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عشق خدا کا نور ہے
    عشق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا آغاز عین معنی آنکھ سے ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عین کا ایک مطلب چشمہ بھی ہوتا ہے (جیسے عینک ، اور ایک چشمہ دل میں بھی پھوٹتا ہے جو روح کے گیتوں کو وجود میں جاری کردیتا ہے ۔۔۔۔۔ جو رقص درویش کرواتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ محبوب کے حسن کی جھلک عین سے ہوتی ہوئی قلب کو شق کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور قلب کے اندر موجود عشق کا سوار بیدار ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ وہی نقطہ کمال ہے جس کے لیے رب نے اپنے بندے کو پید اکیا کہ وہ اپنے رب کو عرفان حآصل کرتے ۔۔۔۔۔۔ وہ اسکی جستجو کرے ، اسکو تلاش کرے اور پھر اسکے عشق میں خؤد کو بھول جائے فنا ہوجائے اور کربلا کے میدان میں کھڑا ہوجائے ، ارے سے چیرا جائے یا پھر سر راہ سنگ باری میں بھی سنگ برسانے والے کو دعا دے یا پھر انا الحق کہتا ہو دار سے جھول جائے

    1. بہت عمدہ ۔۔۔۔ مگر میرا پڑھا ہوا ۔۔۔مگر بے کار
      ہم نے جو لکھا ہے اس کو دوبارہ پڑھئے اور غور کیجئے ۔۔۔ اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو پھر آپ اپنی بات پر جمے رہئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *