پیرس دہشت گردی اور براؤن ، پیلا ، نیلا بوتھا

میں پیرس دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہوں ۔۔ انسانی خون کسی بھی رنگ ، نسل یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو وہ مقدم ہے ۔۔۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں پر ایسی دہشت گردی کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا ۔۔

سوشل میڈیا پر ہمارے بہت سے معزز ، عزت ماآب محترم دوستوں ، ساتھیوں نے اس غم میں اپنے چہرے کا رنگ ‘‘ براؤن ، پیلا اور نیلا ‘‘ کر لیا ہے ۔۔۔ میں ان کے اس غم میں بھی شریک ہوں اور بوتھے کو اس طرح رنگنے کی حمایت بھی کرتا ہوں ۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔۔ میں سوچ رہا ہوں کیا مسلمان انسان نہیں ہیں اور اگر انسان نہیں ہیں تو کون سے جانور کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں

چلیں کشمیر کو چھوڑیں ۔۔۔ فلسطین کو چھوڑیں ۔۔۔۔ عراق کو بھی چھوڑیں اور افغانستان کی تو بات ہی نہ کریں ۔۔۔ پاکستان میں کونسے جانور بستے ہیں اور وہ کس نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔۔۔۔ اگر جانور ہیں تو کیا ان کے خون کا رنگ لال نہیں ۔۔۔۔۔

امریکہ کی شروع کی گئی دہشت گردی کی اس جنگ ( جو ہماری اپنی بھی نہیں ) میں ہمارے پاکستان میں کتنے بم دھماکے ہوئے ۔۔۔۔ کتنی معصوم جانوں کے بموں سے چیتھڑے اُڑائے گئے ۔۔۔۔ کتنے معصوم بچوں کے لاشے اُٹھائے گئے ۔۔۔۔ کتنی بے گناہ عورتیں خون میں نہلائی گئیں ۔۔۔کتنے فوجی جوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔۔۔۔۔۔ لاہور سانحہ ، پنڈی سانحہ ، کراچی سانحہ ۔۔۔ غرض کس کس شہر کا ذکر کروں ۔۔۔ پشاور میں اسکول کے معصوم بچوں کا قتل عام کیا انسان کے بچوں کا قتل عام نہیں تھا ۔۔۔۔۔
اس پر تو کسی پاکستانی نے غم میں اپنا بوتھا لال نیلا پیلا نہیں کیا ۔۔۔۔ چلیں غم کو تھوڑا کم کر کے بوتھے کو ‘‘ سبز ‘‘ ہی کر لیا جاتا ۔۔۔۔ تو ہم جانتے کہ ان کی نظر میں مسلمان کا خون بھی ارزاں نہیں ہے ۔۔

بات بوتھے کو رنگنے کی نہیں ہے ۔۔۔ بات دو رخی رویے کی ہے ۔۔۔ آپ مسلمان ہیں ۔۔۔ باہر رہتے ہیں ۔۔۔ باہر والوں کو باور کروائیں کہ آپ کی شروع کی گئی دہشت گردی کی یہ جنگ پاکستانی لڑ رہے ہیں اور ہم بھی انسان ہیں ، ہماری بھی جان آپ کی طرح قیمتی ہے۔۔۔ ہمارے بچے اور عورتیں بھی ہمیں پیاری ہیں ۔۔۔ ہم بھی آپ جیسا خون رکھتے ہیں ۔۔۔۔اگر ہم آپ کے غم میں بوتھا رنگتے ہیں تو آپ کو بھی اپنا بوتھا رنگنا چاہئے۔

About

2 thoughts on “پیرس دہشت گردی اور براؤن ، پیلا ، نیلا بوتھا

  1. انتہا پسندوں نے پوری دنیا میں ہمارا تشخص بگاڑا ہے اس سے پہلے بھی مسلمانوں کے ساتھ مغرب کا رویہ تضحیک آمیز تھا اب ہم قابل نفرت بھی ہوگئے ہیں یہ خلیج کافی بڑھ گئی ہے
    واقعی آپ کی بات درست ہے کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے ہم مسلمان انسان نہیں ہیں
    افسوس ہوتا ہے مغربی رویے پر بھی اور اپنوں کے زخم پر بھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *