یمن کے حوثی دہشت گرد کون ہیں ؟

کہا یہ جارہا ہے کہ یمن کے حوثی قبائل چونکہ اہل تشیع مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے یمن کی جنگ شعیوں کے خلاف ہورہی ہے۔اس بات میں ذرا بھی صداقت نہیں ہے ۔اطلاعات کے مطابق یمن کے حوثی دہشت گرد قبائل میں شعیہ بڑی تعداد میں موجود ضرور ہیں مگر ان حوثی قبائل میں سنی دہشت گردوں اور سیکولر دہشت گردوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے جنہوں نے یمن کی معصوم عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔

یمن کی آبادی 25 ملین کے قریب ہے اور اس میں حوثی قبائل کی تعداد تقریباً 30 سے 35 فیصد کے لگ بھگ ہے جن میں سے ایک محتاط اندازے کے مطابق جنگجوؤں کی تعداد نوے ہزار سے زائد بتائی جارہی ہے ۔

اگر ہم مسلم دنیا کا سروے کریں تو شیعہ آبادی کل مسلم آبادی کا 10 سے 12 فیصد کے قریب ہے ۔ایران شیعوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے جب کہ عراق وہ دوسرا ملک ہے جہاں شیعوں کی تعداد اس وقت سب سے زيادہ ہے ۔جبکہ ایرانی محقق ولی نصر شعیوں کی تعداد کے بارے میں پاکستان کو دوسرا بڑا ملک قرار دیتا ہے جس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

پاکستان کی آبادی اس وقت تقریباً 19 کروڑ سے زائد ہے جس میں 8 سے 10 فیصد شعیہ ہیں جبکہ 3 سے 5 فیصد کی آبادی اقلیت پر مشتمل ہے جن میں عیسائی، ہندو ، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے لوگ شامل ہيں ۔ ایران، عراق ، آذر بائیجان اور بحرین میں اہل تشیع اکثریت میں موجود ہیں جبکہ لبنان، ہندوستان، یمن ، کویت ، عرب امارات ،ترکی اور بعض دیگر ممالک میں یہ ایک بڑی اقلیت میں شمار ہوتے ہیں۔

About

4 thoughts on “یمن کے حوثی دہشت گرد کون ہیں ؟

  1. آپ نے بالکل درست لکھا ہے ۔ ہم لوگوں کی اکثریت ٹی وی اور اخبار پر قرآن شریف سے زیادہ اعتبار کرتی ہے جو کہ میرے مطالعہ کے مطابق سب کے سب سرمایہ دارانہ یا بالفاظِ دیگر صیہونی کنٹرول میں ہیں ۔ ہم ہر نماز میں کئی بار اھدنا الصراط المستقیم کہتے ہیں لیکن سیدھی راہ پر چلنے کی کوشش نہیں کرتے ۔
    جناب میری نالائقی کہ میں نے اُوپرتصویر بردار کالے والے حصے پر آج سے پہلے نظر نہ ڈالی حالانکہ میں آپ کی اکثر تحاریر پڑھتا ہوں ۔ قائل تو آپ کا ہی تھا لیکن آپ کو شیخو کے حوالے سے مغلیہ شہزادے کا رُتبہ دیئے رکھا لیکن آپ تو فارسی اور عربی والے شیخ ہیں یعنی باعِلم آدمی ۔

    1. محترم سر افتخار اجمل بھوپال صاحب
      آپ کے تبصرے ، محبتوں اور عنائت کا شکریہ ۔۔۔۔ سر میں نکما سا گناہگار انسان ہوں ۔۔۔ اللہ مجھے معاف فرمائیں آمین

  2. بلکل درست اور سو فیصد درست نظریہ ہے، لیکن میں کل سے میڈیا پر دیکھ رہا ہوں، اکثریت شعیہ علما اور ان کے ساتھ ساتھ کچھ نیم حکیم ٹائپ کے تجزیہ نگار ، اپنی ہی ہانکے چلے جار ہے ہیں۔

    پنجابی کی ایک مثال ہے
    “روندی یاراں نوں لے لے ناں بھراواں دا”
    یعنی یہ لوگ بار بار کہتے ہیں‌کہ پاکستان کو جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیئے اور بلا بلا بلا بکواس بلا وغیرہ۔
    لیکن اصل یہ لوگ یہی سمجھ رہے ہییں کہ یہ جنگ صرف شعیہ کے خلاف ہے۔

    بہت اعلٰی تجزیہ “شیخو” بھائی جان۔ جزاک اللہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



%d bloggers like this: