آئیے موبائل فون سے اردو بلاگنگ کریں (مائکرو بلاگنگ) ۔

دنیا میں انٹرنیٹ جوں جوں ترقی کی منازل طے کرتا جارہا ہے اس میں جدیدیت آتی جارہی ہے یہ الگ بات ہے کہ ہمارے پاکستان میں جدیدیت تب آتی ہے جب چڑیاں کھیت چُگ چکی ہوتی ہیں۔بحرحال اب بھی ایسے کھیت باقی ہیں جن کا کچھ حصہ خالی ہے اور جن سے بھر پور فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔خیر یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی۔ہم آتے ہیں اپنے اصل کام کی جانب۔۔۔۔۔

گوگل کی بلاگ سپاٹ کی بلاگنگ سروس کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔جو اس کا بلاگ استمال کرتے ہیں اس کی افادیت وہی جانتے ہیں۔ہم آج تحریک دے رہے ہیں ان پرانے بلاگرز کو جو یہ سروس اپنے کمپیوٹر کے زریعہ سے استمال کر رہے ہیں۔۔۔آنے والےنئے بلاگرز کو ہمارا یہ مشورہ ہے کہ پہلے وہ یہ سروس اپنے کمپیوٹر کے زریعہ سے ہی استمال کریں ۔اُس وقت تک جب تک کہ وہ اس کے استمال سے ا چھی طرح واقف نہ ہو جائیں۔

موبائل سے بلاگنگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کہیں بھی ہوں صرف ایک کلک میں اپنا بلاگ پوسٹ کر کے دنیا کو وہ معلومات بہم پہنچا سکتے ہیں جن کا تصور ٹی وی یا پرنٹ میڈیا نہیں کرسکتا۔ٹی وی میڈیا کی رپورٹ جب تک اس کے نیوزروم میں پہنچے گی آدھی سے زیادہ دنیا آپ کی اس خبر یا معلومات سے باخبر ہوچکی ہوگی۔

چلیں آئیے شروع کرتے ہیں۔۔۔سب سے پہلے اپنے موبائل فون سے پلے سٹور میں جائیں ۔۔۔نیچے تصویر دیکھیں ۔۔۔

یہاں اوپر سرچ کے آپشن میں blogspot سرچ کریں۔۔۔۔نیچے تصویر دیکھیں ۔۔۔

بلاگ سپاٹ کا صفحہ آنے وہاں سے بلاگ کو انسٹال کر لیں۔۔۔نیچے تصویر دیکھیں ۔۔۔

انسٹال ہونے کے بعد آپ کے موبائل فون میں بلاگ کا آئکون آ چکا ہو گا ۔۔۔۔نیچے تصویر دیکھیں ۔۔۔

اس آئکون کو کلک کریں ۔۔۔آپ کے پاس آپ کے جی میل اکائونٹ کی تفصیلات آئیں گی۔اگر ایک اکائونٹ ہے تو اس پر کلک کر دیں اگر زیادہ ہیں تو جس پر آپ بلاگ چلانا چاہتے ہیں اس پر کلک کردیں۔۔نیچے تصویر دیکھیں ۔۔۔

اب آپ اپنے بلاگ کے اندرونی حصہ میں یعنی ایڈمن پینل پر پہنچ چکے ہیں۔۔۔۔
پینسل کے نشان پر کلک کر کے آپ اپنی تحریر لکھیں گے اور اگر کوئی ویڈیو اپ لوڈ کرنا چاہیں تو کیمرہ کو کلک کر دیں۔۔۔۔نیچے تصویر دیکھیں ۔۔۔

دائیں ہاتھ تین ڈاٹ کے نشان پر کلک کر کے آپ اپنا بلاگ بھی دیکھ سکتے ہیں اور یہاں سے اپنے بلاگ کی سیٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔۔۔۔نیچے تصویر دیکھیں ۔۔۔



پنسل کے نشان پر کلک کرنے سے جو صفحہ کھلے گا اس میں اوپر ٹائٹل میں تحریر کا عنوان دیجئے۔۔۔دوسرے خانے میں اپنا متن یعنی مضمون،تصویر،ویڈیو وغیرہ۔۔۔تیسرے خانے میں جہاں لیبل لکھا ہوا ہے وہاں کیٹگری ڈالئے۔۔۔۔اور اوپر بغیر دم والے ایرو کو کلک کر کے پبلش کر دیجئے۔۔۔۔نیچے تصویر دیکھیں ۔۔۔۔۔





نوٹ ۔۔۔

اتنا سب کچھ دیکھنے یا پڑھ کر گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے یہ کام صرف آدھے منٹ سے ایک منٹ کا ہے۔ایک دو دفعہ کرنے سے آپ اس کے عادی ہو جائیں گے۔
مثال کے طور پر ہم کسی جگہ موجود ہیں وہاں کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے جس کو ہم نے تحریر کرنا ہے۔۔۔تو اس کے متعلق تھوڑی سی معلومات بمعہ تصویر یا ویڈیو کے اپلوڈ کر نے سے زیادہ سے زیادہ ایک منٹ کا وقت لگتا ہے۔
اپنے بلاگ کو ٹیوٹر ، فیس بک اور گوگل پلس کے ساتھ نتھی ( آپس میں منسلک) کر کے رکھیں تاکہ جونہی آپ بلاگ پر پوسٹ پبلش کریں اسی لمحہ وہی پوسٹ آپ کے ٹیوٹر، فیس بک اور گوگل پلس کے صفحات پر بھی نظر آئے ۔

یاد رکھیں ۔۔۔۔

اچھا صحافی ہمیشہ وہی لکھتا ہے جو وہ دیکھتا ہےاور تحقیق کرتا ہے ۔اور ایک بلاگر وہ سب کچھ لکھتا ہےجو وہ دیکھتا ہے ، تحقیق کرتا ہے اور محسوس کرتا ہے۔
اوریہ بات ہمیشہ یاد رکھئے کہ آپ ایک بلاگر ہیں اور ایک بلاگر ہمیشہ سچ لکھتا ہے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

About

4 thoughts on “آئیے موبائل فون سے اردو بلاگنگ کریں (مائکرو بلاگنگ) ۔

  1. بہترین تحریر و رہنمائی۔ موبائل میں اُردو کی بورڈ انسٹال کرنے کے بعد اُردو بلاگنگ پر نہایت ہی مفید پوسٹ۔
    مائیکروبلاگنگ پر تھوڑی سی بات میں بھی کرلوں، ہم روز مرہ زندگی میں کسی بھی واقعے کی اطلاعات بصورت چھوٹے چھوٹے پیغامات (ایس ایم ایس)، تحریر، تصاویر، آڈیو یا ویڈیوز وغیرہ اپنے موبائل فون، فیس بک، ٹویٹر، بلاگ سپاٹ یا دیگر سوشل میڈیا کی سائٹس پر شیئر کرتے ہیں، تو ان چھوٹے چھوٹے پیغامات و اطلاعات کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کو مائیکروبلاگنگ کہتے ہیں۔ اب چونکہ پاکستان میں بھی موبائل فون کمپنیاں سستے ریٹس میں موبائل ڈیٹا فراہم کررہی ہیں اور وائی فائی کی سہولت سے بھی مستفید ہوا جاسکتا ہے ، اس لئے اب موبائل فون سے مائیکروبلاگنگ کرنا کوئی مشکل نہیں۔ آپ نہایت آسانی سے اپنے موبائل فون کو ٹوئیٹر سے اور پھر ٹوئیٹر کو فیس بک سے منسلک کرکے صرف ایک پیغام (تحریر، تصویر، آواز یا ویڈیو) بہت آسانی سے تین چار سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر شیئر کرکے اپنی آواز کو عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



%d bloggers like this: