ماں پلوانوں کی بدمعاشیاں

haal-road-02شدید سردی کی آمد کے ساتھ ہی لاہور کے بہت سے علاقوں میں سوئی گیس کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے۔پچھلے آٹھ دن سے ہمارے گھر میں بھی گیس ناپید ہے ۔ روٹی اور سالن بازار سے منگوا کر کھایا جارہا ہے ۔آس پڑوس سے پتہ کرنے پر سب ہی نے سوئی گیس والوں کو کوسنے دئیے ۔

جیدے چڑی مار سے بات ہوئی تو کہنے لگا۔۔اوئے باؤ ۔۔تیرے گھار گیس نہی ہیگی ( تمہارے گھر گیس نہیں ہے ) ۔میں نے کہا جیدے پہلوان گیس تو یار جب سے سردی آئی ہے غائب ہے ۔۔۔کہنے لگا ۔۔ چلو تم میرے ساتھ ۔۔ابھی تمہارے گھر میں گیس آتی ہے ۔

جیدا چڑی مار ہمیں لے کر ہال روڑ جا پہنچا ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ گندے نالے کے پیچھے داتا مارکیٹ اور اس سے ملحقہ تمام گلیوں میں لوگ لائینیں لگا کر کھڑے ہیں ۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہاں سوئی گیس کا ایک ایسا جدید آلہ فروخت ہورہا ہے جس سے گھر میں دھڑا دھڑ گیس کا اخراج شروع ہوجاتا ہے ۔چاہے پھر آپ اس گیس سے روٹیاں پکائیں یا پھر ننگا نہائیں ۔ہمیں بڑی حیرت ہوئی اور ہم نے جیدے چڑی مار سے کہا کہ یار جیدے کیا یہ واقع میں حقیقت ہے یا فراڈ ہو رہا ہے ۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک گھر میں پیچھے سے گیس نہ آرہی ہو اور اس آلے سے گیس آنا شروع ہو جائے ۔۔۔اس میں کیا گیدڑ سنگھی ہے ۔جیدا چڑی مار کہنے لگا اوئے باؤ یہ واقع گیدڑ سنگھی ہی ہے چلو آؤ میں تمہیں اس کی زیارت کرواؤں ۔

haal-road-01
ہم نے بھی سوچا کہ واقع میں ایسی چیز کی زیارت کرنا تو بنتا ہی ہے جو جادوئی اثر رکھتی ہو ۔دھکم پیل سے بچتے بچاتے کہنیاں کھاتے اور لوگوں کا حق مارتے جب ہم لائن توڑ کر اس مبارک ہستی کی دکان پر پہنچے جو یہ گیدڑ سنگھی فروخت کر رہا تھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ دوکاندار 3000 روپے میں بجلی سے چلنے والا ایک ڈبہ سافروخت کر رہا تھا اور اس کا دعوٰی تھا کہ اس سے آپ کے گھر میں گیس آ جائے گی ۔ہم نے جیدے چڑی مار کے علاوہ وہاں کھڑے لوگوں سے اس کی تصدیق کی تو پتا چلا کہ دوکاندار سچ کہہ رہا ہے ۔

haal-road-03
آس پاس اور ٹیکنیکل لوگوں سے اس گیدڑ سنگھی کی تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ فنکاروں نے ڈبے کے اندر کمپریسر لگایا ہوا ہے جو ہوا کے پریشر سے پائپوں سے گیس کو کھینچ کھانچ کر آپ تک پہنچاتا ہے ۔ جبکہ اس کے چلانے سے آپ کے آگے والے گھروں کی گیس ناپید ہوجاتی ہے ۔دوکانداروں سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ایسا آلہ لگانا ممنوع اور جرم نہیں ہے کیا ؟ اور کیا آپ لوگوں نے اس کے فروخت کی سوئی ناردن گیس والوں سے اجازت لی ہوئی ہے تو ایک حاجی صاحب شیطانی سی ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگے۔۔۔او باؤ جی کیہڑیاں گلاں کردے او ۔۔سارے نال ہی ہوندے نے ( باؤ جی کونسی باتیں کرتے ہو ۔۔سارے ساتھ ہی ہوتے ہیں ) ۔
haal-road-04
آجکل لاہور کے بہت سے علاقوں کے زیادہ تر گھروں میں یہ کمپریسر نما آلہ لگا ہوا ہے جس سے باقی کے اسی فیصد گھروں میں گیس ناپید ہے ۔اگر سوئی ناردن گیس والوں نے فوری طور پر اس غیر قانونی آلے کے خلاف ایکشن نہ لیا تو کہیں یہ نہ ہو کہ محلوں میں آپس میں لڑائی مار کٹائی کے علاوہ سوئی گیس کے محکمے کے خلاف شدید احتجاج شروع ہوجائے۔

نوٹ ۔۔
ماں پلوان اور پین پلوان لاہوری زبان کے مخصوص پنجابی الفاظ ہیں جو کسی کی تذلیل کرنے کے لئے استمال کئے جاتے ہیں ۔ماں پلوان کے الفاظ ( ماں پہلوان ، ماں کی کمائی کھانے والے بدمعاش کے لئے استمال کئے جاتے ہیں ۔اسی طرح پین پلوان کے الفاظ ( بہن پہلوان ، بہن کی کمائی کھانے والے بدمعاش ) کے لئے استمال کئے جاتے ہیں ۔
اس تحریر کو ‘‘ ماں پلوانوں کی بدمعاشیاں ‘‘ کا عنوان اس لئے دیا گیا ہے کہ یہ پاک سر زمین ہماری ماں ہے ۔۔۔۔ جس کو ہم بیچ رہے ہیں ۔۔۔ جس کی ہم ناجائز کمائی کھا رہے ہیں ۔۔ہر گندہ بندہ اور ہر محکمہ اس ماں کو بیچنے کے در پر ہے۔۔۔ کوئی اکیلا اور کوئی ملی بھگت سے ۔۔۔۔۔

About

5 thoughts on “ماں پلوانوں کی بدمعاشیاں

  1. اِس آلے کی ایجاد بلکل ویسی ہے ہے ۔ جیسی پانی کی” روح کھچ ” موٹروں کی تھی ۔
    غریب محلے والے گھر گھر میں موٹریں لگ جانے سے ، کمیٹی کے میٹھے پانی سے محروم ہوگئے تھے ۔

    1. برادر میں دوسروں کا حق مارنا پسند نہیں کرتا۔۔۔ ویسے بھی اگر میں ایسی زیادتی کرتا تو عوام کی آگاہی اور سوئی گیس والوں کی ملی بھگت کے متعلق یہ تحریر نہ لکھتا

  2. الحمداللہ اس حوالے سے ہمارے گاؤں والے بڑے پرسکون ہیں۔ہمارے گاؤں میں گیس آئے ہوئے دو سال سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا ہے لیکن ان دو سالوں میں فقط ایک بار دو گھنٹے کیلیے گیس بند ہوئی تھی وہ بھی اس لیے کہ ساتھ والے گاؤں کا کنکشن جاری کرنا تھا،وگرنہ وہ دن جب ہم نے گیس لگوائی اور آجکا دن ایک منٹ کیلیے نہ پریشر کم ہوا نہ بند ہوئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *