خونی تھوک ۔۔۔۔ سعادت حسن منٹو

mantoگاڑی آنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔
مسافروں کے گروہ کے گروہ پلیٹ فارم کے سنگین سینے کو روندتے ہوئے ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ پھل بیچنے والی گاڑیاں ربڑ ٹائر پہیوں پر خاموشی سے تَیر رہی تھیں۔ بجلی کے سینکڑوں قمقمے اپنی نہ جھپکنے والی آنکھوں سے ایک دوسرے کو ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے تھے۔ برقی پنکھے سرد آہوں کی صورت میں اپنی ہوا پلیٹ فارم کی گدلی فضا میں بکھیر رہے تھے۔ دور ریل کی پٹری کے پہلو میں ایک لیمپ اپنی سرخ نگاہوں سے مسافروں کی آمد و رفت کا بغور مشاہدہ کر رہا تھا۔۔۔۔۔پلیٹ فارم کی فضا سگریٹ کے تند دھوئیں اور مسافروں کے شور میں لپٹی ہوئی تھی۔
پلیٹ فارم پر ہر ایک شخص اپنی اپنی دھن میں مست تھا۔ تین چار بنچ پر بیٹھے اپنی ہونے والی سیر کا تذکرہ کر رہے تھے۔ ایک گھڑی کے نیچے خدا معلوم کن خیالات میں غرق زیرِ لب گنگنا رہا تھا۔ دور کونے میں نیا بیاہا ہوا جوڑا ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔ خاوند اپنی بیوی کو کچھ کھانے کے لیے کہہ رہا تھا۔ وہ شرما کر مسکرا دیتی تھی، پلیٹ فارم کے دوسرے سرے پر ایک نوجوان قلیوں کے ساتھ لڑکھڑا کر چل رہا تھا، جو اسکی بہن کا تابوت اٹھائے ہوئے تھے۔ پانچ چھ فوجی گورے ہاتھ میں چھڑیاں لئے اور سیٹی بجاتے ہوئے ریفرشمنٹ روم سے شراب پی کر نکل رہے تھے۔ بک سٹال پر چند مسافر اپنا وقت ٹالنے کی خاطر یونہی کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے میں مشغول تھے۔ بہت سے قلی سرخ وردیاں پہنے گاڑی کی روشنی کا امید بھری نگاہوں سے انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔ریفرشمنٹ روم کے اندر ایک صاحب انگریزی لباس زیب تن کئے سگار کا دھواں اڑا کر وقت کاٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔
“قلیوں کی زندگی گدھوں سے بھی بدتر ہے۔”
“مگر میاں کیا کریں آخر پیٹ کہاں سے پالیں؟”
“ایک قلی دن بھر میں کتنا کما لیتا ہو گا؟”
“یہی آٹھ دس آنے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یعنی صرف جینے کا سہارا۔۔۔۔۔۔اور اگر بال بچے ہوں تو اپنا پیٹ کاٹ کر ان کا منہ بھریں۔ جب ان لوگوں کی تاریک زندگی کا خیال ایک دفعہ بھی میرے دماغ میں آ جائے تو پہروں سوچتا رہتا ہوں کہ آیا ان کی مصیبت ہماری نام نہاد تہذیب پر بدنما داغ نہیں ہے؟”
دو دوست پلیٹ فارم پر ٹہلتے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
خالد اپنے دوست کی گفتگو سن کر قدرے متعجب ہوا اور مسکرا کر کہنے لگا۔ “کیوں میاں یہ لینن کب سے بنے تم؟۔۔۔۔۔۔تہذیب کس بلا کا نام ہے۔۔۔۔۔۔انسانیت کے سرد لوہے پر جما ہؤا زنگ۔۔۔۔۔۔جانے دو ایسی باتوں کو، جانتے ہو میں پہلے ہی سے اپنے حواس کھوئے بیٹھا ہوں۔”
“خالد، سچ کہہ رہے ہو۔ یہ باتیں واقعی دماغ کو درہم برہم کر دیتی ہیں۔ دو روز ہوئے اخبار میں ایک خبر پڑھی کہ پندرہ مزدور کارخانے میں آگ لگ جانے کی وجہ سے جلے ہوئے کاغذ کے مانند راکھ ہو گئے۔ کارخانہ بیمہ شدہ تھا، مالک کو روپیہ مل گیا۔ مگر پندرہ عورتیں بیوہ بن گئیں اور خدا معلوم کتنے بچے یتیم ہو گئے۔ کل تین نمبر پلیٹ فارم پر ایک خاکروب کام کرتے کرتے گاڑی تلے آ کر مرگیا۔ کسی نے آنسو تک نہ بہایا۔۔۔۔۔۔جب سے یہ واقع دیکھا ہے، طبیعت سخت مغموم ہے۔ یقین جانو، حلق سے روٹی کا لقمہ نیچے نہیں اترتا، جب دیکھو اس خاکروب کی خون میں لتھڑی ہوئی لاش آنکھیں باہر نکالے میری طرف گھور رہی ہے۔۔۔۔۔۔مجھے اس کے گھر ضرور جانا چاہئے، شاید میں اس کے بچوں کی کچھ مدد کر سکوں۔”
خالد مسکرایا اور اپنے دوست کا ہاتھ دبا کر کہنے لگا۔ “جاؤ۔۔۔۔۔۔پندرہ مزدوروں کی بیکس بیویوں کی بھی مدد کرو، یہ ایک نیک اور مبارک جذبہ ہے مگر اس کے ساتھ ہی شہر سے کچھ فاصلے پر چند ایسے لوگ بھی آباد ہیں، جنھیں ایک وقت کے لیے سوکھی روٹی کا نصف ٹکڑا بھی میسر نہیں۔ گلیوں میں ایسے بچے بھی ہیں جن کے سروں پر کوئی پیار دینے والا نہیں، ایسی سینکڑوں عورتیں موجود ہیں جن کا حسن غربت کے کیچڑ میں گل سڑ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بتاؤ تم کس کس کی مدد کرو گے؟ ان پھیلے ہوئے ہاتھوں میں سے کس کس کی مٹھی بھرو گے؟۔۔۔۔۔۔۔۔ہزاروں ننگے جسموں میں سے کتنوں کی ستر پوشی کرو گے؟”
“آہ، درست کہتے ہو خالد۔۔۔۔درست کہتے ہو، مگر بتاؤ اس تاریک آندھی کو کس طرح روکا جا سکتا ہے؟ اپنے ہم جنس افراد کو ذلت کی زندگی بسر کرتے دیکھنا، ننگے سینوں پر چمکتے ہوئے بوٹوں کی ٹھوکریں کھاتے دیکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔سخت بھیانک خواب ہے۔”
“واقعات کی رفتار کا نتیجہ دیکھنے کا انتظار کرو، یہ لوگ اپنی طاقت کے باوجود اس طوفان کو نہیں روکتے۔ خود اعتمادی نے انہیں برداشت کرنا سکھا دیا ہے۔۔۔۔۔چنگاریوں کو شعلوں میں تبدیل کرنا آسان ہے مگر چنگاری کا پیدا کرنا بہت مشکل ہے۔۔۔۔۔بہرحال تمھیں امید رکھنی چاہئے شاید تمھاری زندگی میں ہی مصائب کے یہ بادل دور ہو جائیں۔”
“میں یہ سہانا وقت دیکھنے کے لیے اپنی زندگی کے بقایا سال نذر کرنے کو تیار ہوں۔”
“کاش یہی خیال باقی لوگوں کے دلوں میں بھی موجود ہوتا۔۔۔۔۔مگر یار گاڑی آج کچھ دیر سے آتی معلوم ہوتی ہے۔ دیکھو نا پٹڑی پر روشنی کا نام و نشان تک نظر نہیں آتا۔”
خالد کا ساتھی کسی گہری فکر میں غوطہ زن تھا۔ اس لیے اس نے اپنے دوست کے آخری الفاظ بالکل نہ سنے۔ اور اگر سنے تو کچھ اور خیال کر کے کہنے لگا۔ “واقعی یہ خیال پیدا کرنا چائیے اور اگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“چھوڑو میاں اب اس فلسفے کو۔۔۔۔۔کچھ پتا بھی ہے، گاڑی کب آنے والی ہے؟” خالد نے اپنے دوست کو بازو سے پکڑتے ہوئے کہا۔
“گاڑی۔۔۔۔۔۔” اور پھر سامنے والی گھڑی کی طرف نگاہ اٹھا کر بولا۔ “نو بج کر پچیس منٹ، بس دس منٹ تک آ جائے گی۔۔۔۔۔یعنی دس منٹ کے بعد ہمارا دوست ہمارے پاس ہو گا۔۔۔۔۔۔ذرا خیال تو کرو، میں وحید کی آمد کو اس دردناک گفتگو کی وجہ سے بالکل بھول چکا تھا۔”
یہ کہتے ہوئے خالد کے دوست نے جیب سے سگریٹ نکال کر سلگانا شروع کیا۔
پلیٹ فارم پر لوگوں کا ہجوم تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ مسافر بڑی سرعت سے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ قلی اسباب کے ڈھیروں کے پاس خاموش کھڑے گاڑی کے منتظر تھے کہ جلد اپنے کام سے فارغ ہو کر ایک آنہ حاصل کر سکیں۔ خوانچہ والے دوسرے پلیٹ فارموں سے جمع ہو کر اپنی اپنی اپنی مخصوص صدا بلند کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فضا، گاڑیوں کی گڑگڑاہٹ، مختلف انجنوں کی پھپ پھپ، خوانچہ والوں کی صداؤں، مسافروں کی باہم گفتگو کے شور اور قلیوں کی بھدی آوازوں سے معمور تھی۔۔۔۔۔۔برقی پنکھے بدستور سرد آہیں بھر رہے تھے۔
ریفرشمنٹ روم کے اندر بیٹھے ہوئے مسافر نے جو ابھی تک سگار کو دانتوں میں دبائے کش کھینچ رہا تھا، اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کی طرف بڑی بے پروائی کے انداز میں دیکھا، اور بازو کو جھٹکا دے کر مرمریں میز پر سہارا دیتے ہوئے بلند آواز میں بولا۔
“بوائے۔”
ٹھوڑی دیر خادم کا انتظار کرنے کے بعد وہ پھر چیخا۔
“بوائے۔۔۔۔۔۔بوائے۔” اور پھر آہستہ بڑبڑاتے ہوئے۔ “نمک حرام”
“جی آیا حضور۔” دوسرے کمرے میں سے کسی کی آواز آئی، اور ساتھ ہی سپید لباس پہنے ہوئے ایک خادم بھاگ کر اس مسافر کے قریب مودب کھڑا ہو گیا۔
“حضور۔”
“ہم نے تمھیں دو دفعہ آواز دی۔ سوئے رہتے ہو تم لوگ شاید۔”
“حضور میں نے سنا نہیں، ورنہ کیا مجال ہے کہ غلام حاضر نہ ہوتا۔”
غلام کا لفظ سن کر مسافر کا غصہ فرو ہو گیا۔
“دیکھو درجہ اول کے مسافروں سے یہ بے رخی اچھی نہیں، ہم تمھارے بڑے صاحب کے بھی کان کھینچ سکتا ہے، سمجھے؟”
“جی ہاں۔”
“ایجنٹ کے، وہ ہمارا دوست ہے۔۔۔۔۔۔خیر، دیکھو تم ویٹنگ روم میں جاؤ اور ہمارے قلی سے کہو کہ وہ صاحب کا تمام اسباب پلیٹ فارم پر لے جائے۔ گاڑی آنے میں صرف پانچ منٹ باقی ہیں۔”
“بہت اچھا حضور۔”
“اور ہاں، ہمارا بل دوسرے آدمی کے ہاتھ بھجوا دو۔”
“بہت اچھا صاحب”
“دیکھو، بل میں پانچسو پچپن نمبر سگریٹ کے ایک ڈبے کے دام بھی شامل کر لینا۔۔۔۔۔۔پانچسو پچپن نمبر کا ڈبہ خیال رہے۔”
“بل اور ڈبہ گاڑی میں لے کر حاضر ہو جاؤں گا، وقت تھوڑا ہے۔”
“جو مرضی میں آئے کرنا، مگر اب تم جاؤ اور جلدی ہمارے قلی کو اسباب نکالنے کے لیے کہہ دو۔”
مسافر نے یہ کہہ کر ایک انگڑائی لی اور میز پر پڑے ہوئے شراب کے گلاس میں سے آخری گھونٹ ایک ہی جرعے میں ختم کر دیئے۔ گیلے ہونٹ ایک بے داغ ریشمی رومال سے صاف کرنے کے بعد وہ اٹھا اور آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھا۔
صاحب کو دروازے کی طرف بڑھتے دیکھ کر ایک خادم نے جلدی سے دروازہ کھول دیا، مسافر بڑی رعونت سے ٹہلتا ٹہلتا پلیٹ فارم کی بھیڑ میں گم ہو گیا۔
دور ریل کی آہنی پٹڑیوں کے درمیان خیرہ کن روشنی کا ایک دھبہ نظر آ رہا تھا جو آہستہ آہستہ آس پاس کی تاریکی کو چیرتا ہوا بڑھ رہا تھا۔
ٹھوڑی دیر کے بعد یہ دھبہ روشنی کی ایک لانبی دھار میں تبدیل ہو گیا اور دفعتاً انجن کی چوندھیا دینے والی روشنی ایک لمحے کے لیے پلیٹ فارم کے قمقموں کو اندھا بناتے ہوئے گل ہو گئی۔ ساتھ ہی کچھ عرصہ کے لیے انجن کے آہنی پہیوں کی بھاری گڑگڑاہٹ تلے پلیٹ فارم کا شور دب کر رہ گیا۔۔۔ایک چیخ کے ساتھ گاڑی سٹیشن کے سنگین چبوترے کے پہلو میں کھڑی ہو گئی۔
پلیٹ فارم کا دبا ہوا شور انجن کی گڑگڑاہٹ سے آزاد ہو کر ایک نئی تازگی سے بلند ہوا۔ مسافروں کی دوڑ دھوپ، بچوں کے رونے کی آواز، قلیوں کی بھاگ دوڑ، اسباب نکالنے کا شور، ٹھیلوں کی کھڑکھڑاہٹ، خوانچہ والوں کی بلند صدائیں، شنٹ کرتے ہوئے انجن کی دلخراش چیخیں اور بھاپ نکلنے کی شاں شاں، پلیٹ فارم کی آہنی چھت تلے فضا میں ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے تیر رہی تھیں۔
“خالد۔۔۔۔۔۔وحید کو تم نے دیکھا کسی ڈبے میں۔”
“نہیں تو”
“خدا جانے اس گاڑی سے آیا بھی ہے یا نہیں۔”
“تار میں تو اسی گاڑی کا ذکر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ارے، وہ ڈبے میں کون ہے۔۔۔۔وحید۔”
“ہاں، ہاں، وحید۔”
دونوں دوست بھاگتے ہوئے اس ڈبے کی طرف بڑھے جس میں سے وحید اپنا اسباب اتروا رہا تھا۔
ریفرشمنٹ روم والا مسافر تیزی سے فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ کی طرف بڑھا۔ باہر دروازے کے ساتھ لگے ہوئے کاغذ کو ایک نظر دیکھنے کے بعد دروازہ کھول کر ڈبے کے اندر داخل ہو گیا اور پیتل کی سلاخ تھام کر قلی اور اپنے اسباب کا انتظار کرنے لگا۔
قلی اسباب سے لدا ہوا گاڑی کے ڈبوں کی طرف دیکھ دیکھ کر دوڑا چلا آ رہا تھا۔ مسافر نے اسے جھلا کر بلند آواز میں پکارا۔
“ابے اندھے، ادھر آ”
قلی نے مسافر کی آواز پہچان کر ادھر ادھر نگاہ دوڑائی مگر بھیڑ میں خود مسافر کو نہ دیکھ سکا، وہ ابھی اسی پریشانی کی حالت میں ہی تھا کہ ایک اور آواز آئی۔
“کیوں۔ نظر نہیں آ رہا کیا؟ ادھر، ادھر۔۔۔۔۔ناک کی سیدھ۔”
قلی نے مسافر کو دیکھ لیا اور اسباب لیکر اسکے ڈبے کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔
“صاحب، ایک طرف ہٹ جائیے میں اسباب اندر رکھ دوں”
“ہاں رکھو” دروازے کے ساتھ ایک گدے دار نشست پر بیٹھتے ہوئے بولا۔ “مگر اتنا عرصہ سوئے رہے تھے کیا؟ خانسامے نے تمھیں یہ نہیں کہا تھا کہ صاحب کا سامان اٹھا کر گاڑی آتے ہی فوراً ڈبے میں رکھ دینا؟”
“مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ کس ڈبے میں سوار ہونگے” قلی نے ایک بھاری ٹرنک اٹھا کر بالائی نشست پر رکھتے ہوئے کہا۔
“یہ ڈبہ ہمارا ریزرو کرایا ہوا ہے، باہر چٹ پر نام بھی لکھا ہوا ہے۔”
“آپ نے پہلے یہ کہا ہوتا تو ہرگز یہ دیر نہ ہوتی”۔۔۔۔۔ایک، دو، تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آٹھ۔۔۔اور دس، قلی نے اسباب کی مختلف اشیا گننا شروع کر دیں۔
سامان قرینے سے رکھنے کے بعد قلی نے اپنے اطمینان کے لیے ایک بار رکھی ہوئی چیزوں پر نگاہ ڈالی اور ڈبے سے نیچے پلیٹ فارم پر اتر گیا۔
“صاحب، اپنا سامان پورا کر لیجئے”
مسافر نے بڑی بے پروائی سے اپنی جیب سے ایک نفیس بٹوہ نکالا اور ابھی کھول کر مزدوری ادا کرنے والا ہی تھا کہ اسے کچھ یاد آیا۔
“ہماری چھڑی کہاں ہے؟”
“چھڑی؟۔۔۔۔۔۔۔ چھڑی تو آپ کے پاس ہی تھی۔”
“میرے پاس، بکتا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔وہیں چھوڑ آیا ہو گا تو”
“چھڑی آپ کے پاس تھی۔۔۔۔۔مگر صاحب اس سخت کلامی سے پیش آنا درست نہیں، جب میں نے کوئی خطا ہی نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
قلی کی زبان سے اس قسم کے الفاظ سن کر مسافر آگ بھبھوکا ہو گیا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر دروازے کے پاس کھڑا ہو کر چلانے لگا۔
“سخت کلامی سے پیش آنا درست نہیں۔۔۔۔۔۔۔کسی نواب کا صاحبزادہ ہے۔۔۔۔۔جتنے کی چھڑی ہے اتنی تو تیری قیمت بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔چھڑی لیکر آتا ہے یا نہیں؟۔۔۔۔۔۔چور کہیں کا۔”
چور کے لفظ نے قلی کے دل میں ایک طوفان برپا کر دیا، اسکے جی میں آئی کہ اس مسافر کو ٹانگ سے پکڑ کر نیچے کھینچ لے اور اسے اس اکڑ فوں کا مزا چکھا دے۔ مگر طبیعت پر قابو پا کر خاموش ہو گیا اور نرمی سے کہنے لگا۔
“آپ کو ضرور غلط فہمی ہوئی ہے، چھڑی آپ نے کہیں رکھ دی ہو گی، مجھے بتائیے میں وہاں سے پتا لے آؤں۔”
“گویا میں بیوقوف ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔میں کہہ رہا ہوں، چھڑی لیکر آؤ ورنہ ساری شیخی کرکری کر دوں گا۔”
قلی ابھی کچھ جواب دینے ہی لگا تھا کہ اسے چند قدم کے فاصلے پر خانساماں نظر آیا جو ہاتھ میں سگریٹ کا ڈبہ اور چھڑی پکڑے چلا آ رہا تھا۔
“چھڑی خانساماں لیکر آ رہا ہے اور آپ خواہ مخواہ مجھ پر برس رہے ہیں۔”
“بکو نہیں اب۔۔۔۔۔۔۔کتے کی طرح چلائے جا رہا ہے۔”
یہ سن کر قلی غصے سے بھرا ہوا مسافر کی طرف بڑھا۔ مسافر نے پورے زور سے اسکے بڑھے ہوئے سینے میں نوکیلے بوٹ سے ٹھوکر لگائی۔ ٹھوکر کھاتے ہی قلی چکراتا ہوا سنگین فرش پر گر کر بیہوش ہو گیا۔
قلی کو گرتے دیکھ کر بہت سے لوگ اسکے اردگرد جمع ہو گئیے۔
“بیچارے کو بہت سخت چوٹ آئی ہے۔”
“یہ لوگ بہانہ بھی کیا کرتے ہیں۔”
“منہ سے شاید خون بھی نکل رہا ہے۔”
“معاملہ کیا ہے؟”
“اس آدمی نے اسے بوٹ سے ٹھوکر لگائی ہے۔”
“کہیں مر نہ جائے بیچارہ۔”
“کوئی دوڑ کر پانی کا ایک گلاس تو لائے۔”
“بھئی ایک طرف ہٹ کر کھڑے رہو، ہوا تو آنے دو۔”
قلی کے گرد جمع ہوتے ہوئے لوگ آپس میں طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد خالد اور اسکا دوست بھیڑ چیر کر گرے ہوئے مزدور کے قریب پہنچے۔ خالد نے اسکے سر کو اپنے گھٹنوں پر اٹھا لیا اور اخبار سے ہوا دینا شروع کر دی۔ پھر اپنے دوست سے مخاطب ہو کر بولا۔
“مسعود، وحید سے کہہ دو کہ ہم اب اسے گھر پر ہی مل سکیں گے۔۔۔۔اور ہاں ذرا اس ظالم کو تو دیکھنا، کہاں ہے۔۔۔۔گاڑی چلنے والی ہے، کہیں وہ چلا نہ جائے۔”
یہ سنتے ہی لوگ اس مسافر کے ڈبے کے پاس جمع ہو گئے جو کھڑکی کے پاس بیٹھا کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اخبار پڑھنے کی بے سود کوشش کر رہا تھا۔
مسعود اپنے دوست وحید سے رخصت لیکر اس مسافر کی طرف بڑھا اور کھڑکی کے قریب جا کر نہایت شائستگی سے کہا۔
“آپ یہاں اخبار بینی میں مصروف ہیں اور وہ بیچارہ بیہوش پڑا ہے۔”
“پھر میں کیا کروں؟”
“چلئے اور کم از کم اسکی حالت کو ملاحظہ تو کیجیئے۔”
“کمبخت نے میرے سفر کا تمام لطف غارت کر دیا ہے۔” اور پھر دروازے سے باہر نکلتے ہوئے۔ “چلئے صاحب۔۔۔۔۔۔یہ مصیبت بھی دیکھنا تھی۔”
خالد بیہوش قلی کا سر تھامے اسے پانی پلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ لوگ جھکے ہوئے خالد اور قلی کے چہروں کی طرف بغور دیکھ رہے تھے۔
“خالد، آپ تشریف لے آئے ہیں۔” مسعود نے مسافر کو آگے بڑھنے کو کہا۔
“ہاں، جناب۔۔۔۔۔یہ ہے آپ کے ظلم کا شکار۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی ڈاکٹر کو ہی بلوا لیا ہوتا آپ نے؟” مسعود نے مسافر سے کہا۔
مسافر، قلی کے زرد چہرہ اور لوگوں کا گروہ دیکھ کر بہت خوفزدہ ہوا اور گھبراتے ہوئے جیب سے اپنا بٹوہ نکالا۔
مسافر ابھی بٹوہ نکال رہا تھا کہ قلی کا جسم متحرک ہوا اور اس نے اپنی آنکھیں کھول کر ہجوم کی طرف پریشان نگاہوں سے دیکھنا شروع کیا۔
“یہ نوٹ آپ اسے میری طرف سے دے دیجیئے گا۔۔۔۔۔میں چلتا ہوں گاڑی کا وقت ہو گیا ہے۔” مسافر نے مسعود کے ہاتھ میں دس روپے کا ایک نوٹ پکڑاتے ہوئے انگریزی میں کہا، اور پھر قلی کو ہوش میں آتے دیکھ کر اس سے مخاطب ہوا۔ “ہم نے اس غلطی کی قیمت ادا کر دی ہے۔”
قلی یہ سن کر تڑپا، منہ سے خون کی ایک دھار بہہ نکلی، بڑی کوشش سے اس نے یہ چند الفاظ اپنی زخمی چھاتی پر زور دے کر نکالے۔
“میں بھی انگریزی زبان جانتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دس روپے۔۔۔۔۔۔۔ایک انسان کی جان کی قیمت۔۔۔۔۔۔میرے پاس بھی کچھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔”
باقی الفاظ اسکے خون بھرے منہ میں بلبلے بن کر رہ گئے، مسافر قلی کی یہ حالت دیکھ کر اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اسکا ہاتھ دبا کر کہنے لگا۔
“میں زیادہ بھی دے سکتا ہوں۔”
قلی نے بڑی تکلیف سے مسافر کی طرف رخ پھیرا اور منہ سے خون کے بلبلے نکالتے ہوئے کہا۔
“میرے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔بھی۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے مسافر کے منہ پر تھوک دیا، تڑپا اور پلیٹ فارم کی آہنی چھت کی طرف مظلوم نگاہوں سے دیکھتا ہوا خالد کی گود میں سرد ہو گیا۔۔۔۔۔۔مسافر کا منہ خونی تھوک سے رنگا ہوا تھا۔
خالد اور مسعود نے لاش دوسرے آدمیوں کے حوالہ کر کے مسافر کو پکڑ کر پولیس کے سپرد کر دیا۔
مسافر کا مقدمہ دو مہینے تک متواتر عدالت میں چلتا رہا۔
آخر فیصلہ سنا دیا گیا، فاضل جج نے ملزم کو معمولی جرمانہ کرنے کے بعد بری کر دیا۔ فیصلے میں یہ لکھا تھا کہ قلی کی موت اچانک تلی پھٹ جانے سے واقع ہوئی ہے۔
فیصلہ سناتے وقت خالد اور مسعود بھی موجود تھے۔ ملزم انکی طرف دیکھ کر مسکرایا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔
“قانون کا قفل صرف طلائی چابی سے کھل سکتا ہے۔”
“مگر ایسی چابی ٹوٹ بھی جایا کرتی ہے۔”
خالد اور اسکا دوست باہر برآمدے میں باہم گفتگو کر رہے تھے۔

About

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



%d bloggers like this: