پاکستان میں جب تک جاہل ملا زندہ ہیں ایسا ہوتا رہے گا

koot-radhaپاکستان کے شہر قصور کے ایک گاؤں کوٹ رادھا کشن میں ایک عیسائی میاں بیوی کو بھرے بازار میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کرنے کے الزام میں بے پناہ تشدد کر کے ہلاک کر دیا گیا اور بعد ازاں ان کی لاشوں کو جلا دیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ عیسائی خاتون شمع بی بی اور اُس کے شوہر شہزاد مسیح کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اُنہیں جلا دیا گیا جبکہ پولیس کا یہ کہنا تھا کہ جب وہ موقع پر پہنچے تو دونوں میاں بیوی کو مشتعل افراد نے جان سے مار دیا تھا۔

تفتیش کو چھوڑیں ۔۔۔ چلیں ہم مان لیتے ہیں کہ انہوں نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی تھی ۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ ہم خود قانون کو ہاتھ میں لیں ۔۔۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انہیں قانون کے حوالہ کیا جاتا اور پھر قانون انہیں جو جی چاہے سزا دیتا ۔۔۔۔ جب پاکستان میں قانون موجود ہے تو پھر ایسی ناانصافی کیوں ؟
کیا پاکستان میں غیر مسلموں کو جینے کا کوئی حق نہیں ؟
کیا پاکستان میں غیر مسلموں کو ایسے ہی الزام لگا کر خود سزا دی جاتی رہے گی اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہے گی ؟
کیا اسلام ہمیں خود قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت دیتا ہے ؟
کیا اسلام نے ہمیں اختیار دیا ہے کہ ہم حکومتی قانون کے موجود ہوتے ہوئے بھی خود انھیں سزا دیں؟
کیا اسلام میں لاشوں کی بے حرمتی کرنا جائز ہے ؟
کیا کہیں گے ہم ۔۔۔۔۔ یہی کہ مسیحی تھے ۔۔۔۔ ان کو جینے کا کیا حق تھا
کونسا اسلام لئے پھرتے ہیں ہم ۔۔۔ کیا اپنا بنایا ہوا خود ساختہ اسلام ؟
اسلام ہمیں ایسا سبق ہرگز نہیں دیتا بلکہ اسلام ہمیں غیرمسلموں کی عزت آبرو اور ان کی مذہبی عبادات کی حفاظت کا حکم دیتا ہے

بہت ظلم ہوگیا اب پاکستانی حکومت کو اس پر سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیئں ۔پاکستانی حکومت کو سب سے پہلے نچلی سطح پر گلی محلوں میں قائم کی گئی مسجدوں کے جاہل ملاؤں پر پولیس کے زریعے نگاہ رکھنی چاہئے ۔جو بھولی بھالی عوام کو اسلام کے نام پر بیوقوف بناتے ہیں ۔اور جس کو جی چاہتا ہے اسلام کے نام پر اپنے وڈیروں کے کہنے پر مروا دیتے ہیں ۔۔۔ کبھی توہین رسالت کے نام پر اور کبھی قرآن کی بے حرمتی کے نام پر ۔۔۔۔
حکومت کو یہ بھی چاہئے کہ ان گلی محلوں کی مساجد میں گورنمنٹ کی جانب سے بھیجا گیا جمعہ کا خطبہ پڑھا جائے تاکہ ملک میں تفرقے بازی کو لگام دی جاسکے ۔اور اگر کوئی مولوی اس سے اجتناب کرے اسے ملکی قانون کے تحت سخت سزا دی جائے ۔

حکومت پاکستان کو اس سلسلہ میں اب کچھ مثبت اقدام اٹھانے چاہیئں ورنہ پاکستان میں جب تک جاہل ملا زندہ ہیں ایسا ہوتا رہے گا

About

11 thoughts on “پاکستان میں جب تک جاہل ملا زندہ ہیں ایسا ہوتا رہے گا

  1. شیخو جی ہم بھی اس بات سے متفق ہیں کہ جو بھی توہین کا مرتکب ہو اسے سزا ملنی چاہئے
    جب قانون بھی موجود ہے اور گواہ بھی تو پھر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ہرگز ہرگز جائز نہیں

  2. محترم ان سوالوں کے جوابات کے لئے مولویوں کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھ لیں ان شاء اللہ تشفی ہوگی۔ اگر اس تحریر میں ان کتابوں سے چند حوالے بھی دے دیتے تو تحریر میں جان پڑ جاتی۔
    آج تک کسی مولوی نے ایسا کچھ نہیں کروایا یہ ہمارا عوامی رویہ ہے اور ہمارے جدید تعلیمی ادارے اس کی بنیاد ہیں، وہاں تعلیم کے بجائے جو کچھ غنڈہ گردی سکھائی جاتی ہے اور ان اداروں میں تنظیمی لڑائیوں‌میں جو معصوم مارے جاتے ہیں آپ کہہ دیں کہ اس کی وجہ بھی مولوی ہی ہیں۔ مولویوں پر نظر رکھی جائے تو یہ غنڈہ گردی بھی بند ہو جائے اور اگر مولویوں‌پر نظر رکھی جاتی تو وہ دو بھائی بھی نہ مارے جاتے جنہیں عوام نے پولیس کی آشیرباد سے ڈنڈوں سے مار مار کر شہید کردیا تھا اور اسی طرح اگر مولویوں پر نظر رکھی جاتی تو مراکش سے دین سیکھنے اور سکھانے کے جذبے سے آنے والوں کو بھی کراچی میں خون میں نہ نہلا دیاجاتا۔
    میں بھی آپ کے ساتھ متفق ہوں کہ حکومت کو مولویوں پر کڑی نظر رکھنی چاہئے تا کہ اپنے مدارس میں جو مثالی امن و بھائی چارہ انہیوں نے قائم کر رکھا ہے اس کے اثرات پورے معاشرے پر نہ پڑ جائیں۔

    1. سب سے پہلے تو آپ کے تبصرے کا جواب دیر سے دینے کی معذرت ۔۔۔۔ مصروفیت کی وجہ سے میں بلاگ پر دھیان نہیں دے سکا۔
      محترم برادر میری تحریر کو غور سے دوبارہ پڑھیں۔۔۔ اگر سمجھ نہ آئے تو بار بار پڑھیں ۔۔۔۔ انشااللہ سمجھ آجائے گی
      میں نے کبھی بھی ایک پڑھے لکھے مولوی یا عالم کے لئے ملا کا لفظ استمال نہیں کیا۔
      باقی آپ کے سوالوں پر تبصرہ اس لئے نہیں کروں گا کہ میری تحریر آپ کی سمجھ میں نہیں آئی۔۔۔۔ میری نظر میں آپ کی سب باتیں جذباتی ہیں جن کی میں قدر کرتا ہوں

  3. محترم ۔ آج آپ کا لکھا تبصرہ کہیں پڑھ کر یہاں پہنچا ہوں ۔ آپ کا بلاگ ” بلاگستان“ پر کیوں نظر نہیں آتا ؟
    اور اگر آتا ہے تو مجھے کیوں نظر نہیں آیا ؟ چلیئے دوسرا سوال میں اپنے آپ سے بعد میں پوچھ لوں گا
    ہاں جناب ۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ پودا اُگے اور اسے نکالا نہ جائے تو بڑھتے بڑھتے درضت بن جاتا ہے ۔ اور اگر چھانگ دیا جائے یعنی اُوپر سے باریک ٹہنیاں کاٹ دی جائیں تو بڑا ہونے کے ساتھ پھیلتا بھی ہے
    حضور ۔ اب پودہ بڑا درخت بن کر پھیل بھی چکا ہے اور یہ کام ہم عوام بنام مسلمان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اہلکاروں نے بڑی محنت سے کیا ہے
    ہو سکے تو میری مندرجہ ذیل تحریر پڑھ لیجئے جو میں نے 16 اگست 2005ء کو لکھی تھی
    http://www.theajmals.com/blog/2005/08/16

    1. محترم برادر افتخار اجمل صاحب
      سیارہ والوں کو اپنے بلاگ ربط کو صحیح کرنے کی بارہا درخواست دینے کے بعد اب میں نے خاموشی اختار کر لی ہے۔
      اور بلاگستان والوں کو اب دوبارہ ربط صحیح کرنے کی درخواست دوں گا انشااللہ
      محترم بہت اعلی اور حقیقت پر مبنی تحریر لکھی ہوئی ہے آپ نے اور یہ سو فیصد سچ بھی ہے۔۔
      محترم آپ اپنی نئی تحریر کا ربط فیس بک بلاگر گروپ میں ضرور ڈالا کریں۔
      باقی انشااللہ اب جب کبھی اسلام آباد آیا تو آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوں گا

  4. محترم نجیب عالم صاحب۔
    میری عادت ہے کہ کسی تحریر پر تبصرے سے پہلے اسے اچھی طرح بغور پڑھتا ہوں پھر اس پر تبصرہ کرتا ہوں۔
    جوابی تبصرے اور جذبات کی قدردانی کا شکریہ کیونکہ اس سے آپ کے بارے میں جو غلط فہمی تھی دور ہوئی۔ لیکن غلط فہمی بھی آپ کے الفاظ سے ہی پیدا ہوئی۔ وہ الفاظ ہیں “جاہل ملا” ملا عموما عالم کو ہی کہا جاتا ہے جیسے کوئی کہے “پڑھے لکھے جاہل” تو ذہن میں فورا یہ بات آتی ہے کہ اس نے کالج و یونیورسٹیوں کے سند یافتوں پر طنز کیا ہے، اسی طرح جاہل ملا کے الفاظ سے بھی سند یافتہ علماء پر ہی طنز معلوم ہوتا ہے۔ آپ نے کہا کہ “میں نے کبھی بھی ایک پڑھے لکھے مولوی یا عالم کے لئے ملا کا لفظ استمال نہیں کیا” لیکن اگر آپ ان پڑھ دیہاتی ائمہ کے لئے بھی “جاہل ملا” کے بجائے ” ان پڑھ دیہاتی امام” کے الفاظ استعمال کریں تو نہ غلط فہمی پیدا ہو اور نہ ہی تبصرے بازی ہو کیوں کہ معانی تو الفاظ کے ہی لئے جاتے ہیں نہ کہ ہمارے مافی الضمیر کے۔۔۔

  5. مجھے ایک بات کچھ کھٹک رہی ہے ،
    وہ یہ کہ جب دین کے نام سے غلطی ہوجائے تو بجائے اس غلطی کو سنوارنے ،ہم عصری اداروں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔
    اسی طرح عصری اداروں کی غلطی پر ہم بجائے اسکے اصلاح کے الٹا ہم دینی اداروں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔

    میرے خیال میں یہ طریقہ درست نہیں۔اس سے اصلاح کے بجائے بغض و کینہ کی کیفیت پروان چڑھتی ہے۔

    رہی بات ہمارے اکثریتی دینداری کی ذہن کی ،تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ،کہ دین کے معاملے میں بلکہ میں یہ کہنا چاہونگا کہ زندگی کے ہر معاملے میں ہم انتہاء تک پہنچتے ہیں۔

    آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ بعض اوقات مفتیان کرام یا باضابطہ علماء کی جناب سے کسی معاملے میں نرم رویہ اختیار کرنے پر عوام ان علماء تک کو بائی پاس کردیتے ہیں۔

    اور ایسے سینکڑوں واقعات کا میں چشم دید گواہ ہوں۔

    یہ بھی کہنا چاہونگا کہ اس معاملے میں پاکستانی عوام چاہئے تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ،سب برابر کے شریک ہیں۔
    چنانچہ میں نے ان پڑھ لوگوں کے ساتھ 19 یا 20 گریڈ کے آفسران کو بھی دیکھا ہے کہ بعض معملات میں وہ دین کے حدود سے بھی بڑھ کر شدت اختیار کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ شدت دین کی طرف سے نہیں بلکہ انکی اپنی نفسیاتی کمزوری کی طرف سے ہوتی ہے۔

    رہی بات دینی اداروں کی ،تو اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ جب تک “مخلص” حکومت کی زیر سرپرستی علماء کو تیار نہ کیا جائے ،اس وقت تک ہمیں علماء سے کامل راہنمائی کی توقع عبث ہیں ،یہ جو سینکڑوں میں چند مثالی نمونے ہیں یہ شاذ ہیں۔

    اگر کوئی موجودہ عصری علوم کے اداروں کی مثال دیں تو اسکی خدمت میں عرض ہے کہ حکومت عصری اداروں کے ساتھ بھی مخلص نہیں ہے۔یہ وجہ ہے کہ وہاں بھی تباہی عروج پر ہے۔

    1. محترم منصور مکرم صاحب
      آپ کی اس بات سے کلیۃ متفق ہوں کہ دینی و عصری اداروں کی ایک دوسرے پر چڑھائی مناسب نہیں اس سے دونوں طرف کا نقصان ہی ہو رہا ہے لیکن اتنی عرض ہے کہ اس چڑھائی کی ابتداء ریادہ تر عصری اداروں کی طرف سے ہی ہوتی ہے، نیز آپ کی یہ بات ” یہ بھی کہنا چاہونگا کہ اس معاملے میں پاکستانی عوام چاہئے تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ،سب برابر کے شریک ہیں” بالکل محقق ہے جیسا کہ میں نے بھی اپنے پہلے تبصرے میں اسی بات کی وضاحت کی تھی۔میرے پہلے تبصرے کے الفاظ “آج تک کسی مولوی نے ایسا کچھ نہیں کروایا یہ ہمارا عوامی رویہ ہے” اس پر شاہد ہیں۔ باقی دینی اداروں یا افراد کی طرف سے اگر کچھ کہا جاتا ہے تو وہ الزامی جواب کے طور پر کہا جاتا ہے۔
      باقی مخلص حکومت کی سرپرستی سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن جن حکومتوں نے ہمارے عصری اداروں کو تباہ کیا ان کی سرپرستی ہر گز نہیں قبول کی جا سکتی۔

  6. آپ لوگوں کو شائد یاد ہوگا کہ انگریزوں کی آمد کے بعد ایمرجنسی بنیادوں پر دینی علوم کی ترویج کیلئے دینی ادارے قائم کئے گئے۔
    اسی طرح اُس وقت کے نوجوانوں کو اُس وقت کے ایمرجنسی بنیادوں پر ہندووں کے مقابلے کیلئے تیار کیا گیا۔
    اور یہ ایمرجنسی نظام ہائے تعلیم ابھی تک چل رہے ہیں۔
    اور یہ بات سب لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ ایمرجنسی کام صرف ایمرجنسی حالات کے وقت مفید ہوتا ہے ، ورنہ نارمل حالات میں وہ بذات خود بھی نقصان دہ ہوتا ہے۔ عام زندگی میں اسکی کئی مثالیں موجود ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *