ہماری کنجرانہ ثقافت کدھر گئی

hera-mandiبڑے دنوں بعد آج ہیرا منڈی سے پاوے کھانے کو دل کیا تھا سوچا وقت ابھی باقی ہے کیوں نہ اپنی کنجرانہ ثقافت پر بھی ایک نظر ڈال لی جاوے ۔۔۔۔دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ ہماری ہیرا منڈی اداس بیابان حسرت و یاس کی تصویر بنی اجڑے دیار کا منظر پیش کر رہی ہے ۔
سامنے سے گذرتے ایک عقلمند مجنون سے پوچھا۔۔ میاں کیا تم جانتے ہو کہ ہماری ہیرامنڈی کی ثقافت کا کیا ہوا ؟
ہنس دیا ۔۔۔ اور ایک بڑی سی پان کی پیک پھینکتے ہوئے بولا ۔۔جس کے چھینٹے ہمارے کپٹروں پر خون کے دھبوں جیسے داغ ڈال گئے
کتنے خرچ کر سکتے ہو صاحب جی
کیا مطلب ؟ میں نے تم سے یہاں کی ثقافت بارے سوال کیا ہے اور تم ہو کہ ہم سے پیسوں کی بات کررہے ہو
پھر ہنس پڑا ۔۔۔۔ اب کی بار میں تھوڑا اس سے دور ہو لیا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس بار میرا منہہ بھی لال ہو
کہنے لگا ۔۔۔۔ صاحب جی میں بیوقوف نہیں ہوں ۔۔۔ جیب میں پیسے ہوں تو بولو ۔۔۔
اچھا بتاؤ تو سہی پیسے بھی لے لینا یار ۔۔۔ میں نے کہا
کہتا ہے ۔۔۔۔
سبزہ زار جانا ہوگا تین ہزار ریٹ ہے جس میں سے پانچ سو علیحدہ سے میرے ہوں گے ۔۔۔ صاحب جی اگر یہاں آپ کو مال پسند نہیں آتا تو اقبال ٹاؤن کے پانچ ہزار اور ایک بڑا نوٹ میرا ہوگا۔
اگر وہاں بھی پسند نہ آیاتو ۔۔۔ میں نے پوچھا
تو گلبرگ چلے چلیں گے ۔۔۔ وہاں کے آٹھ ہزار ہوں گے اور ایک بڑا نوٹ میرا ۔۔۔۔ اگر وہاں بھی آپ کو پسند نہ آیا اور آپ کی پسند اونچی ہوئی تو پھر ہم ڈیفینس چلیں گے۔۔ مگر صاحب جی ڈیفینس کے بارہ ہزار کے ساتھ دو بڑے نوٹ میرے ہوں گے

About

14 thoughts on “ہماری کنجرانہ ثقافت کدھر گئی

  1. پہلی واری جب وہاں سے گزر ہوا تھا تو کن انکھیوں سے ادھر اُدھر دیکھ کر کچھ خاص دیکھنے کی سعی کی تھی مگر کچھ نہ ملا سوائے روائیتی بازار اور ہلے گلے کے۔ بطور سند ایک تصویر وہاں بنا لی اور فیس بک پر شیئر کرلی، اس تصویر پر ایک دوست نے صرف اس وجہ سے اپنی گروپ سے نکال لیا کہ نعیم نے ہیرا منڈی میں تصویر بنا لی اور میرے دوست کیا سمجھیں گے مجھے، آپ کی تحریر میں اُس کو بھیج رہا ہوں کہ دیکھ لو۔ میری بات پر تو اُس نے یقین نہیں کیا، آپ کی یہ تحریر بطور ثبوت کافی ہے۔

    1. ہاہاہاہاہا
      بھائی جی دوست کو بتانا تھا کہ ہیرا منڈی والے بھی انسان ہیں ”’ مجبور انسان ”
      خوشی سے اپنی بوٹیاں نوچنے کون دیتا ہے
      دوست کو تحریر بھیجنے کا شکریہ
      کبھی اندر کی باتیں لکھوں گا تو وہ بھی انہیں ضرور بھیجیے گا

  2. جنت مقامی جنرل ضیاءالحق صاحب نے ان لوگوں‌کو ہیرا منڈی سے بھگا کر پورے شہر میں‌پھیلا دیا۔ اچھا تھا جو یہ وہیں بند رہتے، اب تو شہر کا شہر ہی کنجر دکھائی دیتا ہے۔۔۔

    1. واہ کیا خوب کہا ہے آپ نے کہ ،،
      شہر کا شہر ہی کنجر دکھائی دیتا ہے
      یعنی ۔۔۔

      ثقافت بھی کیا خوب ہے ہم لوگوں کی
      شہر کا شہر ہی کنجر دکھائی دیتا ہے

  3. مجھے آپ کی یہ بات بہت پسند ھے کہ آپ نے میری طرح اپنے اوپر مصنوعی ملمع چڑھا کر نام نہاد باتہذیب بننے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ آپ کا لکھا بالکل وھی ھوتا ھے جس کو میں لاھور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں دیکھتا آیا ھوں۔
    میں چاھوں گا کہ آپ باقاعدگی سے اپنے اردگرد کے بارے اپنی رائے لکھیں۔
    لیکن اس کے باوجود ایک بات ضرور کہوں گا۔
    ٹیبو ٹاپک میں شائد ٹیبو الفاظ کا استعمال تحریر کو کافی بوجھل بنا دیتا ھے۔
    بندے کو لگتا ھے کہ میں یہ پڑھ کر خوامخواہ کوئی جرم کر رھا ھوں۔
    یہ احساس مہارت کے ساتھ لکھے ٹیبو ٹاپک میں نہیں‌آتا۔
    الفاظ تو چھوڑیں۔ گالم گلوچ چاھے پیار سے ھی کیوں نہ ھو، اس کی زیادتی عوام کو خوامخواہ آپ سے دور کردیتی ھے۔
    خیر یہ میری رائے ھے۔ اس پر عمل کرنا آپ پر ھرگز فرض نہیں۔
    خوش رھیں۔

    ویسے بہن چود کا صحیح تلفظ بھین چود ھے۔

    1. محترم میں بذات خود تبصروں پر روک کے خلاف ہوں ۔۔۔ اصل میں یہ ورڈ پریس کے نئے ورژن کو اپ گریڈ کرنے سے کوئی نیا پنگا پڑا ہے ۔۔۔ میں اس کو ابھی دور کئے دیتا ہوں
      نشاندہی کا شکریہ

    1. بلاگ پر آنے اور تبصرہ کرنے کا شکریہ
      ابھی ابھی آپ کا بلاگ بھی دیکھا ہے ۔۔۔ آپ کی تحریریں بہت قیمتی ہیں ۔۔۔ انہیں باہر لائیے ۔۔۔ لوگوں کو پڑھوائیے
      شاد آباد رہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *