کاروباری ڈاکو

grocery-009ڈاکوؤں کی بھی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں ۔ایک ڈاکو وہ ہیں جو سرعام اسلحے کے زور پر ڈکیتی کر گذرتے ہیں اور ایک وہ ڈاکو ہیں جو قانون کے زور پر سرعام ڈکیتی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ایک وہ بھی ڈاکو ہیں جن کو عوام اپنے ہاتھ سے منتخب کرتی ہے اور ایک وہ بھی ڈاکو ہیں جو دل و جگر کی ڈکیتی کرتے ہیں جس سے بندہ شاعر بن جاتا ہے۔اور بھی بہت سے ڈاکو ہیں جن کا ذکر خیر پھر کسی وقت پر چھوڑتے ہیں ۔آج ہم صرف کاروباری ڈاکوؤں پر بات کریں گے جن سے بندہ ہر لمحہ لٹتا رہتا ہے ۔

اگر آپ کسی دوکان ، ڈیپارٹمینٹل سٹور پر جاتے ہیں اور وہاں سے پانچ چھ سے زیادہ چیزوں کی خریداری کرتے ہیں تو سو میں سے ساٹھ فیصد دوکاندار یا کیش کاؤنٹر والے ایسے ہوں کہ آپ کی آنکھوں کے سامنے آپ سے ڈکیتی کر گذریں گے ۔ہوتا کچھ یوں ہے کہ یہ دوکاندار تمام چیزوں کا حساب کتاب کرتے ہوئے آخر میں ٹوٹل زیادہ لگا دیتے ہیں ۔اگر کسی نے ٹوٹل کر لیا تو اوہو غلطی ہو گئی کہہ کر آپ کو آپ کے زائد پیسے واپس کر دیتے ہیں۔
سو میں سے نوے لوگ پرچی یا بل بغیر دیکھے جیب میں رکھ لیتے ہیں اور جتنے پیسے دوکاندار یا کیشئر کہتا ہے اسے ادا کر دیتے ہیں ۔ان میں سے بھی دو سے تین فیصد لوگ گھر جا کر بل چیک کرتے ہیں ورنہ وہ بل اگلے دن کوڑے کے ڈھیر میں پڑا سرعام ڈکیتی پر منہہ چڑا رہا ہوتا ہے،

عورت یا مرد سبزی والے کے پاس جاتا ہے تین چار سبزیاں خرید کر صرف یہ پوچھا جاتا ہے کہ کتنے پیسے ہوئے ۔۔۔اب سبزی والا حساب کتاب لگا رہا ہوتا ہے ۔۔۔بیس ، پینتیس، چالیس ۔۔ فلاں فلاں۔۔ دو سو بیس روپے ہوگئے بی بی جی یا صاحب جی ۔۔۔۔۔ اب بی بی جی یا صاحب جی کے ساتھ سبزی کی دوکان پر دو تین گاہک اور بھی کھڑے ہوں تو بی بی جی یا صاحب جی اپنی شو بازی، جھوٹی انا کے چکر میں حساب کتاب نہیں کریں گے فوراً پیسے نکال کر سبزی والے کو پکڑا دیں گے ۔۔۔اگر آپ یہی حساب کتاب کریں گے سو میں سے اسی فیصد سبزی فروش کاروباری ڈاکو کا خطاب پائیں گے۔

کیک اینڈ بیکس ، گورمے بیکری ، گورنمنٹ اور پرائیویٹ یوٹیلیٹی سٹورز کی ‘‘ زیادہ تر ‘‘ شاخوں کے کیش کاؤنٹر پر یہی صورتحال ہے ۔۔۔ کہ آپ آٹھ دس چیزیں خریدتے ہیں ۔اس میں یا تو ایک آدھ چیز زیادہ ڈال ( جو کہ آپ نے لی نہیں ہوتی۔اور آپ کو دی بھی نہیں جاتی ) کر زیادہ پیسے وصول کئے جاتے ہیں یا ٹوٹل غلط بتا کر زیادہ پیسے وصول کئے جاتے ہیں۔

سننے میں آیا ہے کہ بڑے بڑے ڈیپارٹمینٹل سٹور کے کیشئر پوش علاقوں میں اپنی تعیناتی کروانے کی سفارش کرواتے ہیں اور کچھ تو اپنی تعیناتی کے عوض بہت سی رشوت بھی دیتے ہیں کیونکہ وہاں کے نوے سے زائد فیصد لوگ بل لینا ہی گوارا نہیں کرتے۔کیونکہ ان کو بل لینے سے بھی بے عزتی ہونے کا ڈر رہتا ہے

دو دن بعد رمضان کی آمد ہے اور رمضان المبارک میں یہ کاروباری ڈکیتی عروج پر ہوگی کیونکہ ثواب کمانے کا یہ موقع پھر ملے یا نہ ملے اور یہ بھی تو ہے نا کہ اگلا سال کس نے دیکھا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

About

3 thoughts on “کاروباری ڈاکو

  1. بالکل درست لکھا ۔
    اور حقیقت بھی ایسی ہی ہے۔کئی بار ایسے ڈاکوؤں کو پکڑچکا ہوں۔لیکن یہ یاد نہیں کہ کتنی بار انکے ہاتھوں لُٹ چکا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *