چوبرجی ۔۔۔ مغل شہنشاہ کا ایک حسین شاہکار

لاہور شہر میں واقع چوبرجی مغل شہنشاہ کا بنایا ایک حسین شاہکار ہے ۔سڑک کے بیچوں بیچ چار برجوں پر کھڑی اس خوبصورت عمارت کے بالکل سامنے میانی صاحب قبرستان ہے جبکہ اس کے پیچھے شام نگر کا گنجان علاقہ نظر آتا ہے ۔۔۔ اس کے دائیں ایم اے او کالج والی روڈ ہے جبکہ اس کے بائیں ملتان روڑ ہے۔

چوبرجی کو چوبرجی اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ اس عمارت کے چار ستون ہیں جن کو برج کا نام دیا گیا اور اسی وجہ سے ہی شاید یہ چوبرجی کے نام سے مشہور ہوئی ۔تاریخ بتاتی ہے کہ اس عمارت کو مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے اپنی بیٹی زیب النساء کے لئے تعمیر کروایا تھا۔اس تاریخی بلڈنگ کو ١٦٤٦ سولہ سو چھیالیس میں تعمیر کیا گیا۔مغل فن تعمیر کا شاہکار ہوتے ہوئے اس بلڈنگ کو بھی حسین نقش و نگار سے سجایا گیا تھا جس میں نیلا رنگ نمایاں نظر آتا تھا۔

تاریخ کے بعض اوراق یہ بھی بتاتے ہیں کہ چوبرجی کے پیچھے جس جگہ آج کل شام نگر کا علاقہ ہے وہاں دریائے راوی بہتا تھا اور شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی بیٹی زیب النساء اس خوبصورت بلڈنگ سے اس کا نظارہ کیا کرتی تھی ۔

اٹھارہ سو ترتالیس ١٨٤٣ میں زلزلہ آنے کی وجہ سے اس بلڈنگ کا ایک برج زمین بوس ہو گیا جس کی دوبارہ تعمیر کردی گئی تھی ۔مگر زمانے کے ظلم و ستم نے اس عمارت کو بھی صرف نشانی تک ہی رہنے دیا تھا۔

آج سے لگ بھگ تیس سال پہلے چوبرجی صرف میناروں تک ہی چوبرجی نظر آتی تھی ۔ اس کا رنگ روپ اڑ چکا تھا ۔ نقش و نگار مٹ چکے تھے ۔لگ بھگ پندرہ سال پہلے اس کو دوبارہ صحیح کیا گیا اس کے میناروں کی مرمت کر کے اس پر نیا رنگ و روغن کیا گیا۔اس سے ملحقہ باغ کو رنگا رنگ پھولوں سے سجایا گیا۔جہاں آج کل غریب مزدور اپنی راتیں گذارتے ہیں۔

About

One thought on “چوبرجی ۔۔۔ مغل شہنشاہ کا ایک حسین شاہکار

  1. بینر دیکھ کر مجھے کافی حیرانی ھو رہی ہے، کیونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے، چوبرجی پر وال چاکنگ، و اشتہار بازی تو دیکھی تھی، لیکن اتنے بڑے بینر کبھی بھی لگے نہیں دیکھے۔ محض اس ایک چھوٹی سی حرکت سے معلوم ھوتا ہے کہ جماعت دعوۃ والوں کی ہمت کتنی بڑھ چکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *