ورلڈ بنک اور واسا کی جانب سے ایک ورکشاپ کا انعقاد ‘ اردو بلاگرز کی شرکت

پانی ضائع ہونے سے بچائیں ‘ ورلڈ بنک اور واسا کی جانب سے ایک ورکشاپ کا انعقاد

گذشتہ روز ورلڈ بنک اور واسا لاہور کی جانب سے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں اردو بلاگرز ، طالب علم ، انڈسٹری سے متعلق افراد اور واسا سٹاف شریک ہوئے ۔جبکہ ورلڈ بنک کی نمائندگی واٹر اینڈ سینی ٹیشن سپیشلسٹ مسٹر مسرور احمد اور ریجنل کیمونیکیشن سپیشلسٹ محترمہ وندانہ مہرا نے کی ۔کواڈینیٹر کے فرائض مسٹر مزمل اور ان کی اسسٹنٹ ساتھی نے ادا کئے
ورکشاپ کے پہلے سیشن میں مسٹر مسرور احمد نے عام عوام کی جانب سے پانی کے ضیاع کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے دیہات میں بیت الخلا کی کے صحیح نظام کو رائج کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ جہاں اس سے صفائی کا نظام بہتر ہو گا وہاں حفظان صحت کے اصولوں کے تحت بیماریوں پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی ۔محترمہ وندانہ مہرا کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی ستر پرسنٹ سے زاید دیہاتی آبادی میں بھی سینی ٹیشن کے حوالے سے خاصی تشویشناک صورتحال تھی جس پر ورلڈ بنک کے تعاون سے بڑی حد تک قابو پا لیا گیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے محکمے اور عوام کے درمیان رابطہ بے حد ضروری ہے ۔محترمہ وندانہ مہرا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارا آج کی ورکشاپ منعقد کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم کس طرح سے عام عوام اور محمکمے کے درمیان تعلق کو فعال اور بہتر بنا سکتے ہیں ۔

سوال و جواب کے سیشن میں اردو بلاگر ساجد شیخ نے واسا کے افسران پر عوام کی بروقت شکایات دور کرنے پر زور دیا تاکہ عوام کا اعتماد ان پر بحال ہو ۔اردو بلاگر عاطف بٹ نے واسا کے حکام اور عوام میں ربط بڑھانے کے لئے سوشل میڈیا اور اردو بلاگرز کی افادیت کو اجاگر کیا اور ان کے استمال کو بروئے کار لانے کا مشورہ دیا ۔اردو بلاگر نجیب عالم ( شیخو) نے واسا کے افسران کی توجہ پانی کی سرعام چوری اور اس کے ضیاع پر دلائی اور اسے کی روک تھام کی ضرورت پر زور دیا۔

ٹریڈ سٹون کی ڈائیریکٹر سائرہ خان ( سائیکالوجسٹ ) نے عام عوام اور محکمے میں ربط بڑھانے پر ٹیکسٹ میسج کی ضرورت پر زور دیا اور ہنگامی صورتحال میں محلے کی مساجد میں اعلان کروانے کی تجویز پیش کی ۔ایک اور بڑی اہم تجویز جو انہوں نے پیش کی وہ یہ تھی کہ گلی محلہ لیول پر وہاں کے پڑھے لکھے اور سرکردہ افراد کو ٹرینگ مہیا کی جائے ۔تاکہ عام آدمی اور محکمے کے درمیان آسانی سے رابطہ ممکلن ہو سکے ۔

اسسٹنٹ ڈائیریکٹر واسا وردہ عمان ، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر شیخ عظمت علی ، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر محمد رحمان خان ، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر بلال شاہ کا کہنا تھا کہ لاہور میں اس وقت ٤٩١ ٹیوب ویل کام کر رہے ہیں جو کہ آپس میں انٹرلنک ہیں اور ہم لوڈ شیڈنگ کے باوجود چیف منسٹر میاں شہباز شریف کی ہدایات کی روشنی میں عوام کو مسلسل چوبیس گھنٹے پانی سپلائی کر رہے ہیں ۔

میری جانب سے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہ لاہور کے گلی کوچوں میں یہ جو فلٹریشن شاپ کھلی ہوئی ہیں جہاں سے عوام پانی خرید کر پی رہی ہے ۔۔ کیا یہ پانی ٹھیک ہے اور کیا یہ واسا کے علم میں ہے ۔میرے سوال کے جواب میں اسسٹنٹ ڈائیریکٹر واسا وردہ عمان کا یہ کہنا تھا کہ ان فلٹریشن پلانٹ والی دکانوں کو ہم نے یعنی واسا نے لائینسس جاری کئے ہیں اور ہم ان پر مکمل چیک رکھتے ہیں تاکہ یہ لوگ عوام کو حفضان صحت کے اصولوں کے مطابق پانی مہیا کریں ۔

سوال و جواب کے سیشن کے بعد کھانے پینے کا مرحلہ آ پہنچا ۔۔۔ عین دوپہر کے وقت میں یعنی ١٢ سے ٣ بجے دعوت دی گئی تھی اس لئے تقریباً سب ہی بھوکے تھے ۔سب کی میزوں پر مختلف رنگوں سے سجے بسکٹوں کی ایک ایک بھری ہوئی پلیٹ سجا دی گئی اور تھوڑا دور شادی والے ماحول کی طرح ایک بڑا سا کولر گرما گرم گرین چائے کا سجا کر ہمیں کھلا چھوڑ دیا گیا ۔

میں مزے سے بسکٹ کھا کر یہ سوچ رہا تھا کہ اگر ہم سب بھی اسی طرح کفایت شعاری کا مظاہرہ کیا کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم بھی ورلڈ بنک کی طرح امیر نہ ہوجائیں ۔ اب یہی دیکھیں سات پلیٹوں اور ایک گرین چائے کے کولر میں اگر پچاس آدمی بھگتائے جاسکتے ہیں تو ایک شادی جس میں دو سو بندے شریک ہوں اٹھائیس پلیٹوں میں کیوں نہیں بھگتائے جاسکتے ۔

خیر یہ حسابی کتابی باتیں ہیں ان کو ہم بھی ورلڈ بنک اور واسا کے درمیان کھلا چھوڑ دیتے ہیں

یہاں بلاگ پر آدھی تصاویر رکھی گئی ہیں ۔۔۔ مکمل تصاویر آپ میرے گوگل پلس کے پروفائل سے دیکھنے اور ڈاؤنلوڈ کر نے کے لئے یہاں کلک کریں

About

7 thoughts on “ورلڈ بنک اور واسا کی جانب سے ایک ورکشاپ کا انعقاد ‘ اردو بلاگرز کی شرکت

  1. سر جی، کیسے حساب کتاب کو چھوڑ دیں، یہ لوگ تو ویسے ہی تھوک کے ساتھ بڑیاں پکانے کے عادی ہیں۔ ان کا یہ بیان کہ (حترمہ وندانہ مہرا کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی ستر پرسنٹ سے زاید دیہاتی آبادی میں بھی سینی ٹیشن کے حوالے سے خاصی تشویشناک صورتحال تھی جس پر ورلڈ بنک کے تعاون سے بڑی حد تک قابو پا لیا گیا گیا)۔
    کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے اس مسئلے پر کیسے قابو پایا؟ ان کی ہینگ لگی تھی یا کہ پھٹکڑی؟
    اس سے بہتر تو آپ کسی چالیسویں میں چلے جاتے، کم از کم اتنی دیر بھوکے تو نا رہتے۔

    1. بھائی جی تبصرے کا شکریہ
      اس موضوع پر ایک تحریر جلد ہی لکھی جائے گی جس میں صرف اپنی باتیں کی جائیں گی اور ویسے بھی اب میں سوچ رہا ہوں کہ ورلڈ بنک اور اس سے جڑے لوگوں اور اس کے منصوبوں کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جائے۔۔۔ تاکہ ورلڈ بنک اور عوام دونوں کو آگاہی حاصل ہو کہ کون کیا کر رہا ہے اور کیسے کر رہا ہے

    1. آپ نے صحیح نشان دہی کی ۔۔۔ مگر میرے مطابق ان کی اہمیت اس لئے نہی تھی کہ وہ قیام میں تو شامل تھیں ۔۔ طعام میں نہیں ۔
      آخر میں بات صرف میں نے طعام ہی کی کی ہے
      :twisted:

  2. نجیب بھائی ، بہت شکریہ کہ اپ نے اس ورکشاپ میں ہونے والے کچھ کارروائی پیش کر دی ۔
    گو کہ یہ ورکشاپ بھی ایسی روایتی ورکشاپس ہی کی طرح سے ہی اختتام پذیر ہوئی لیکن اس کے انعقاد کے لئے جو مقصد سامنے رکھا گیا تھا وہ انتہائی اہم تھا ۔ مقصد تھا کہ عوام میں پینے کے صاف پانی کی افادیت اور اس کے کفایت شعارانہ استعمال کا شعور بیدار کرنے کے لئے سوشل میڈیا کے ذریعہ پیغام پہنچایا جائے ۔ گو کہ نجیب بھائی ، عاطف بٹ اور راقم کے علاوہ وہاں سوشل میڈیا کا کوئی نمائندہ نہ تھا لیکن ہم تینوں نے وہان اپنے ہونے کا بھرپور احساس دلایا ۔ ہماری وجہ سے نہ صرف وہاں موجود مختلف لوگوں کی سپاٹ چہرے شگفتہ ہوئے بلکہ تبادلہ خیال کے لئے انتہائی دوستانہ ماحول پیدا ہو گیا۔
    اس کا تفصیلی احوال آپ کو جلد ہی میرے بلاگ پر ملے گا ۔

  3. مجھے یاد نہیں کہ میں نے پہلے آپ کے بلاگ پر کبھی تبصرہ کیا ہو۔ وجہ بھی اس وقت یاد نہیں آرہی۔

    آپ کی اس پوسٹ سے متعلقہ تین سوالات ہیں۔
    ایک ۔ کیا آپ واسا یا ورلڈ بینک میں‌کام کرتے ہیں؟
    دو ۔ تصویریں کون کھینچ رہا تھا۔

    1. آپ کے تبصرے کا شکریہ ۔۔۔۔ آپ نے ایک بار پہلے بھی اس ناچیز کے بلاگ پر تبصرہ کیا ہوا ہے۔
      آپ نے دو سوال پوچھے ہیں
      آپ کے پہلے سوال کا جواب ۔۔ ۔۔ دونوں میں سے کسی میں میں نہیں
      آپ کے دوسرے سوال کا جواب ۔۔۔۔ ہمارا ذاتی فوٹو گرافر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



%d bloggers like this: