شہرِ خموشاں سے تازہ بہ تازہ

umer-farooq-01
ہفتہ بھر میں ایک بار میں ضرور اپنے ماں باپ کی قبر پر جاتا ہوں ۔۔ شاید دعائیں لینے ۔۔۔ مگر میں یہ بھی جانتا ہوں اور اس پر میرا ایمان بھی ہے کہ مردے کبھی کچھ نہیں دے سکتے۔۔ کیونکہ جو خود کے لئے کچھ نہیں کر سکتے وہ دوسروں کو کیا دیں گے۔ بس مجھے اپنے ماں باپ سے انسیت ہے ، پیار ہے ۔۔ شاید اس لئے میں ان کے بغیر زیادہ دیر رہ نہیں سکتا ۔قبرستان جانے کے لئے میں نے کوئی دن مخصوص نہیں کر رکھا اور نہ ہی میں قبروں یا مزاروں کا ماننے والا ہوں ۔۔۔ میں سیدھا اللہ سے مانگتا ہوں اور وہی میری مرادیں پورا کرتا ہے ۔

بات ہو رہی تھی قبرستان یعنی شہر خموشاں کی ۔۔۔ جہاں خموشی ہوتی ہے وہاں انسان ارادی یا غیر ارادی طور پر کچھ نہ کچھ سوچتا ضرور ہے ۔اور اس سوچ میں کچھ نیا بھی ہو سکتا ہے ۔اب آپ یہی دیکھیں بیت الخلا کی خاموشی میں بیٹھ کر بہت سے لوگ شاعر بن بیٹھے اور کچھ فلسفی ۔۔۔۔۔۔ ٹویٹر اور فیس بک اس کی زندہ مثال ہیں

ہمیں بھی کچھ نیا سوجھا ہے مگر ہمیں بیت الخلا کی خاموشی میں نہیں بلکہ قبرستان کی خموشی میں کچھ نیا سوجھا ہے ۔وہاں ہم نے سوچا کہ کیوں نہ اب بلاگنگ کو نیا رنگ دیا جائے یعنی تحریر کے ساتھ ساتھ اب آڈیو اور ویڈیو بلاگنگ کو پاکستان میں متعارف کروایا جائے تو اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر ہم نے قبرستان کے گورکن کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا ہے جو کہ آپ کی نظر ۔۔۔انٹرویو دو حصوں پر محیط ہے پہلا حصہ تقریبا پندرہ منٹ اور دوسرا ڈیڑھ منٹ کا ہے ۔تو آئیے سنتے ہیں ۔۔۔

[audio:http://snaji.com/audio/audio-23-06-13-001.mp3] [audio:http://snaji.com/audio/audio-23-06-13-002.mp3]

umer-farooq-02

About

8 thoughts on “شہرِ خموشاں سے تازہ بہ تازہ

  1. :twisted: ہاہاہاہا ۔۔۔ جی گرمی بھی تو بہت ہے نا ۔۔۔ ویسے بھی ملنگوں کے ڈیرے پر بھنگ کا ہی راج ہوتا ہے

  2. اتنی بڑی سچائی اور وہ بھی یکدم:
    بیت الخلا کی خاموشی میں بیٹھ کر بہت سے لوگ شاعر بن بیٹھے اور کچھ فلسفی
    ٹویٹر اور فیس بک اس کی زندہ مثال ہیں

  3. انٹرویو سنا، معلومات میں بہت اضافہ ہوا ہے، اگلی بار آپ نے کس شخصیت کا انتخاب کرنا ہے کے بارے میں‌انتظار رہے گا۔ ،

    1. انشااللہ میری کوشش ہو گی کہ ہر بار کچھ نیا ہو ۔۔ باقی اللہ بہتر کرے گا

  4. میں آجکل بلاگستان سے غائب ہوتا ہوں، آج اچانک ہی ادھر کلک کر دیا۔ اچھا آئیڈیا ہے آپکا آڈیو ریکارڈ کرنے کا۔ کردار بھی آپنے اچھا منتخب کیا ہے شروعات کیلئے۔ انداز بھی بہت اعلیٰ تھا ، سن کے علم میں اضافہ ہوا۔ آپ نے اوپر تحریر میں گورکن لکھا ہے جبکہ یہ تو مجاور یا ملنگ یا سائیں ہیں۔ اگر کبھی موقع ملے تو کسی گورکن اور خاکروب سے گفتگو ضرور شیئر کیجئے گا۔ مجھے ہمیشہ سے اس طرح کے لوگوں کے بارے میں جاننے کا تجسس رہا ہے۔
    خاص طور پہ لاہور اس طرح کے الگ الگ کرداروں سے مالامال ہے۔ امید ہے مزید بھی سننے کو ملتا رہے گا یہاں سے۔ باقی کے دو آڈیو بلاگ بھی ابھی ہی سنے ہیں میں نے۔

    1. آپ کے تبصرے کا بے حد شکریہ
      برادر میں نے سوچا پاکستان میں بھی آڈیو بلاگنگ کو فروغ دیا جائے سو شروع کر دیا۔۔۔انشاللہ گاہے بگاہے بہت سے کرداروں کو متعارف کرواؤں گا۔
      اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ اور بھی نیا ہو ۔۔۔۔ بحرحال آڈیو بلاگنگ شروع کر دی ہے اب دیکھتے ہیں اس میں کیا کچھ نیا کیا جا سکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



%d bloggers like this: