شفقت کا دوسرا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا

my-father

بہت مان تھا ، بہت بھروسہ تھا کہ کچھ غلط ملط کروں گا تو بچ جاؤں گا کیونکہ میرے ماں باپ کی دعائیں میرے ساتھ ہوتی ہیں ۔آج سے ڈیڑھ سال پیشتر ماں کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔۔شدید دکھ پہنچا ۔۔۔ کس کو کہتا اور پھر سنتا بھی کون ہے ۔بس ابا جی سے دل کے پھپھولے پھولتا رہا ۔اور گزشتہ روز مورخہ اٹھائیس نومبر بروز بدھ صبح سات بجے کے قریب وہ بھی ہم سے جدا ہوگئے ۔

سوچتا ہوں اب کس سے دل کی باتیں کروں گا ، ماں کا غم پہلے ہی کیا کم تھا جو اب ابا جی کا غم بھی کاندھے پر لد گیا ۔ کس کو سناؤں گا یہ غم ، کس سے کروں گا دل کی باتیں ، کس کی دعائیں لوں گا، سمجھ نہیں آ رہا

About

One thought on “شفقت کا دوسرا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا

  1. انا للہ وانا الیہ راجعون
    اللہ عزوجل آپ کا صبر جمیل عطا فرمائے
    اور انکل کی مغفرت و بخشش فرمائے
    تسلی دینا تو صرف ایک رسم ہے۔ اللہ ہی سب کا خالق اور مالک ہے۔ اسی کا مال اسی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ ہم سب نے لوٹ جانا ہے۔ اللہ عزوجل ہمیں بھی اپنی اپنی آخرت کی فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



%d bloggers like this: