ساغر صدیقی غزل ۔۔۔ وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو

یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو

بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
ہم بتائیں تو کیا تماشا ہو

آج ہم بھی تری وفاؤں پر
مسکرائیں تو کیا تماشا ہو

تیری صورت جو اتفاق سے ہم
بھول جائیں تو کیا تماشا ہو

وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو

About

3 thoughts on “ساغر صدیقی غزل ۔۔۔ وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *