بسنت بہار

بسنت کا تہوار بس آیا ہی چاہتا ہے اور اس دفعہ تو بسنت کے تہوار کو محفوظ بنانے کے لئے ہماری حکومت نے لاکھوں روپے کے تار مفت بانٹ کر لوگوں کو اپنی موٹر سائکلوں پر لگا کر باہر نکلنے کی ہدایت جاری کر دی ہیں تاکہ ان کی گردنیں محفوظ رہ سکیں۔اور تو اور تعلیمی اداروں میں بسنت کے بارے بچوں کو آگاہی کے سلسلہ میں ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام بھی کیا گیا ہے ۔
شیدا ملنگ کہتا ہے کہ اس پر بحث کرنا ہی فضول ہے کہ کہ ایک بسنت کے تہوار کے لئے تاروں کے لاکھوں روپے عوام کے برباد کرنا اور مثبت تعلیمی سرگرمیوں کے لیکچر کی بجائے بسنت جیسے تہوار کے بارے لیکچر دینا کیا رنگ لائے گا۔
وہ صرف ایک بات کہتا ہے کہ ، ان سب حفاظتی تدابیر کے باوجود اگر کوئی گردن کٹ گئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے گی؟

About

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



%d bloggers like this: