گھوم برابر گھوم ، لاٹو

بٹیر بازی ہو یا ککڑ بازی ( مرغ ) ، کتے اور ریچھ کی لڑائی ہو یا اخروٹ بازی ، پِل گولی ہو یا گِلی ڈنڈا ، کبوتر بازی ہو یا تاش کی بازی ، لُڈو ہو یا شطرنج کی بازی ، ان سب کا اپنا ایک علیحدہ مزا ہے۔
لاٹو بازی ( لًٹو ) بھی ایک فن ہے۔اور پھر لًٹو کو چلانا ہر کسی کے بس کی بات بھی نہیں۔لَٹو کی تین قسمیں عموماً دیکھنے کو ملتی ہیں۔
مٹی کا لًٹو ، یہ خاص مٹی کو گوندھ کر بنایا جاتا ہے ایسی مٹی جس سے عموماً مٹی کے برتن بنتے ہیں۔
سلور اور پلاسٹک کا مکس لًٹو، یہ لًٹو کھلونے جیسا ہوتا ہے۔اور یہ لَٹو بازی میں کام نہیں آتا۔
لکڑی کا لًٹو ، یہ لکڑی کا بنا ہوا خوبصورت نقش و نگار والا لًٹو ہوتا ہے اور یہی لًٹو ایسا ہے جس سے بازیاں کھیلی جاتی ہیں۔
کسی زمانے میں ملتان شہر میں اس کی بڑی بڑی بازیاں لگتی تھیں دور دور سے لوگ ان لاٹو بازیوں کو کھیلنے اور دیکھنے آیا کرتے تھے۔سب سے زیادہ لاٹو بنتے بھی ملتان شہر کے ایک علاقے حرم گیٹ میں ہی تھے۔
حرم گیٹ میں اگر آپ داخل ہوں تو بالکل سیدھا بازارِ حسن ہے ۔سننے میں آیا ہے کہ اپنا انٹر نیٹ والا بیلا پہلوان بھی وہیں کا ہے۔دائیں ہاتھ کو لوہاری گیٹ کی طرف راستہ جاتا ہے اور بائیں ہاتھ پر لاٹوؤں کے استادوں کی دکانیں تھیں۔جن میں تین بڑے استاد ، مستانہ ، دیوانہ اور پوستی نام کے تھے۔اور ان کے لاٹو بھی انہیں کے ناموں سے منسوب بھی تھے۔
مستانہ لاٹو کو جب چھوڑا جاتا تھا کہ جانو گھنٹہ بھر تو گرے گا نہیں اور سبک رفتار اتنا تھا کہ بنانے والے پر رشک آتا تھا۔آخری وقت میں تو اس کی چال ایسے ہوتی تھی کہ اب گرا کہ اب گرا ، مگر گرتے گرتے بھی پانچ منٹ کھا جاتا تھا۔
اس کے برعکس دیوانہ لاٹو شروع سے ہی بہت تیز رفتاری سے گھومتا تھا اپنے نام کی مناسبت سے لگتا سب کو ایسا ہی تھا کہ اس کی دیوانگی کبھی رکنے کی نہیں مگر گرتے وقت اس کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کب گرا۔
پوستی لاٹو ، اپنے نام کی طرح عجیب چال پے گھومتا تھا ، پھینکتے ہی یوں محسوس ہونا شروع ہوجاتا تھا کہ جیسے تھم سا گیا ہو ،دکھائی ہی نہیں دیتا تھا کہ گھوم بھی رہا ہے یا نہیں ، لگتا یوں ہی تھا جیسے زمین پر کوئی چیز چمٹی ہوئی ہو ۔خوب چال تھی اس کی بھی۔
لاٹو کوئی بھی ہو آخر گھومتا ہی ہے اور اگر لاٹو مستانے ، دیوانے اور پوستی جیسا ہو تو گھومنے کے ساتھ جھومتا بھی ہے ۔
دیکھا جائے تو انسان بھی ایک لاٹو ہی ہے ، فرق صرف اتنا سا ہے کہ یہ لاٹو اپنے ہی بنائے ہوئے خود ساختہ مدار میں گھوم رہے ہیں۔اور اگر یہ اسی طرح گھومتے رہے تو دیکھنا آخر یہ ایک دن ضرور گر پڑیں گے۔

ہر لمحہ تازہ ترین اردو راکٹ

About

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



%d bloggers like this: