سوئی گیس کے بل

پرسوں رات کلفی کھانے کے شوق میں ہم جب بابا جی کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں بابا جی ہر ایک کو یہ بڑی بڑی گالیوں سے نواز رہے تھے۔ہم بڑے حیران ہوئے کہ بابا جی کی عمر اب اللہ اللہ کرنے کی ہے مگر بابا جی ہیں کہ ایسی ایسی گالیاں نکال رہے تھے کہ شائد ہماری پاکستانی پولیس کے علاوعہ کسی اور کو ایسی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔
بابا جی جب سانس لینے کے لئے رکے تو ہم نے پوچھا ، بابا جی ایسی کیا آفت آ گئی جو آج آپ کے منہہ سے پولیس کے پھول جھڑ رہے ہیں۔کہنے لگے ، کیا بتائیں صاحب جی اس بگٹی کو تو مار دینا چاہئیے ، اسی کی وجہ سے ساری آفت آئی ہے ۔ہم بڑے حیران ہوئے اور پوچھا کیوں کیا ،کیا بگٹی نے آپ کے ساتھ۔ ارے اس کیا کرنا ہے ہمارا ، اسی کی وجہ سے تو ساری آفت آ رہی ہے ۔اب بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ صرف ایک چولہہ جلتا ہے ہمارے گھر کا اور بل تو دیکھو ذرا کیا آیا ہے ، ساڑھے نو سو روپے۔یہ تو ظلم ہے نا صاحب جی ، سراسر ناانصافی ہے غریبوں کے ساتھ ۔
مگر بابا جی اس دفعہ تو سب کا بل بہت زیادہ آیا ہے اور میرے خیال میں یہ بگٹی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ جو توڑ پھوڑ عوام نے احتجاج کے طور پر کی تھی یہ سب اسی کا ہرجانہ ہے۔اور یہ سب اسی وجہ سے ہے کہ عوام کو اور پیس کر رکھو ، ابھی یہ اٹھنے کے قابل ہیں۔

About

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



%d bloggers like this: